نئی دہلی: اترپردیش کے بریلی میں ایک سرکاری اسکول کے استاد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق،انہوں نے ایک نظم سنائی جس میں مبینہ طور پر مذہبی یاترا اور ‘توہم پرستی’ پر تعلیم کو ترجیح دینے کی بات کی گئی تھی۔پانچ منٹ کے اس ویڈیو کا 26 سیکنڈ کا حصہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں استاد رجنیش گنگوار کو دعائیہ اجتماع کے دوران ایک ہندی نظم پڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بول یہ ہیں، ‘کانوڑ لینے مت جانا۔ تم گیان کے دیپ جلانا۔ مانوتا کی سیوا کرکے ،سچے مانو بن جانا ـاس تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر ہندوتوا کے حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، جس میں اس نظم کو ساون کے مہینے میں نکلنے والے کانوڑیاترا پر تنقید کے طور پر دیکھا گیا
انڈین ایکسپریس Indian express کے مطابق، یہ ایف آئی آر ‘کانوڑ سیوا سمیتی’ نامی تنظیم کی شکایت پر درج کی گئی اخبار نے بہیڑی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او سنجے تومر کے حوالے سے بتایا کہ یہ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 353 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو ‘پبلک ڈسٹربنس کو بڑھاوا دینے والے بیانات’ سے متعلق ہے۔ تومر نے کہا کہ ٹیچر رجنیش گنگوار کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہے پولیس کے مطابق یہ ویڈیو بریلی کے ایم جی ایم انٹر کالج کا ہے
ٹائمز آف انڈیا Times of India سے بات کرتے ہوئے اسکول کے پرنسپل اشوک کمار گنگوار نے کہا،’میں دو دن کی چھٹی پر تھا، استاد نے ہفتے کے روز اسکول کی ایک سرگرمی کے دوران یہ نظم سنائی، مجھے فون پر اس واقعے کا علم ہوا اور میں نے استاد سے وضاحت طلب کی ہے ـ







