اسرائیلی ٹی وی "چینل 13” نے یرغمالیوں کے امور سے متعلق امریکی صدر کے نمائندے ایڈم بولر کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ سے متعلق ایک معاہدہ قریب آ چکا ہے۔
چینل کے مطابق بولر کا کہنا ہے کہ "ہم ماضی کے مقابلے میں اس وقت غزہ سے متعلق ایک معاہدے کے زیادہ قریب ہیں”۔ اس سے جاری مذاکرات میں پیش رفت کی طرف اشارہ ملتا ہے۔
نیتن یاہو نے مذاکراتی وفد برقرار رکھا
اسی تناظر میں اسرائیلی اخبار "یدیعوت آحرونوت” نے خبر دی ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فیصلہ کیا ہے کہ مذاکراتی وفد کو دوحہ میں اس وقت تک رکھا جائے گا جب تک غزہ سے متعلق معاہدہ نہیں ہو جاتا۔اسرائیلی اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے بند کمرے کی بات چیت میں کہا ہے کہ مذاکراتی ٹیم دوحہ میں موجود رہے گی تا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ تفصیلات سے با خبر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ تاثر تمام فریقوں میں قائم ہو چکا ہے کہ نیتن یاہو اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پُر عزم ہیں، اور انھوں نے انخلا کے نقشوں کے معاملے میں خاصی لچک دکھائی ہے۔
ذرائع کے مطابق بات چیت مسلسل جاری ہے اور بعض معاملات میں واضح پیش رفت بھی ہوئی ہے، تاہم بعض دیگر نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
حقیقی نزدیکیاں:دوحہ میں غزہ سے متعلق مذاکرات کے عمل سے با خبر حماس کے ایک ذریعے نے جمعرات کو بتایا کہ "اس وقت مذاکرات میں جو تجاویز سامنے آ رہی ہیں وہ حقیقت پسندانہ ہیں، لیکن حتمی معاہدہ امریکی موقف پر منحصر ہے کیونکہ صرف امریکہ ہی اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی طاقت رکھتا ہے”۔عربی روزنامے الشرق الاوسط سے بات کرتے ہوئے اس ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے جو نئے نقشے پیش کیے گئے ہیں، ان میں موراغ کے علاقے سے متعلق پچھلے نقشوں سے پیچھے ہٹنا شامل ہے، جو ایک مثبت قدم ہے اور سیاسی فضا کو معاہدے کی طرف لے جانے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ہم اب بھی گفت و شنید کے نازک مرحلے میں ہیں، جہاں بہت سی تفصیلات اور شرائط زیرِ بحث ہیں








