سپریم کورٹ نے پیر 28 جولائی کو بہار SIR کی درخواستوں پر مختصر سماعت کی۔ لیکن اس سے پہلے جان لیں کہ سپریم کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت کرنے والا بنچ بدل گیا ہے۔ اس سے قبل ان درخواستوں کی سماعت جسٹس سدھانشو دھولیا اور جویمالا باغچی کی تعطیلاتی بنچ کر رہی تھی۔ لیکن آج پیر کو اس معاملے کی سماعت جسٹس سوریا کانت اور جسٹس باغچی کی بنچ نے کی۔ کیس کی سماعت کل بھی ہو گی۔
***بنچ نے دو اہم باتیں کہیں۔
1بہار میں ڈرافٹ ووٹر لسٹ پرنٹنگ روکا نہیں جا سکتا۔
2الیکشن کمیشن کو آدھار اور ووٹر کارڈ پر غور کرنا چاہیے۔ اس تبصرہ کو سپریم کورٹ نے دہرایا ہے۔
لائیو لاء livelaw کے مطابق، جب سماعت شروع ہوئی، تو ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کی جانب سے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے بنچ پر زور دیا کہ وہ ووٹر لسٹ کے مسودے کے نوٹیفکیشن پر روک لگائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے منظوری دی جاتی ہے تو اس سے تقریباً 4.5 کروڑ ووٹروں کو تکلیف ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ شائع ہونے کے بعد خارج کیے گئے افراد کو اعتراضات درج کرانے اور فہرست میں نام شامل کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 10 جون کو اسٹے کی درخواست نہیں کی گئی کیونکہ عدالت نے مسودے کی اشاعت کی تاریخ سے قبل اس معاملے کی سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ راکیش دویدی نے دلیل دی کہ یہ صرف ڈرافٹ لسٹ ہے۔ یعنی ایس آئی آر کے بعد جو فہرست یکم اگست کو شائع ہونے جا رہی ہے وہ ابھی بھی ڈرافٹ لسٹ ہے۔ جسٹس سوریا کانت نے بھی الیکشن کمیشن کے وکیل سے اتفاق کیا اور کہا کہ آخر یہ ایک مسودہ فہرست ہے اور اگر کچھ غلط پایا جاتا ہے تو عدالت اس پورے عمل کو منسوخ کر سکتی ہے۔ اس کے بعد شنکر نارائنن نے جسٹس کانت سے درخواست کی کہ وہ تبصرہ کریں کہ یہ عمل "درخواستوں کے فیصلے کے تابع” ہوگا۔ جسٹس کانت نے کہا کہ ایسا تبصرہ ضروری نہیں ہے۔ یعنی ایڈوکیٹ شنکر نارائنن چاہتے تھے کہ اس معاملے میں جو بھی فیصلہ لیا جائے گا، اس کا اطلاق ووٹر لسٹ کے سلسلے میں بعد میں ہونے والے عمل پر بھی ہونا چاہیے۔ لیکن جسٹس سوریا کانت نے اسے ماننےانکارکر دیا۔بنچ نے الیکشن کمیشن سے زبانی طور پر کہا کہ وہ کم از کم آدھار اور ای پی آئی سی (ووٹر کارڈ) جیسے قانونی دستاویزات پر غور کرے۔ جسٹس کانت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے زبانی طور پر کہا، "سرکاری دستاویزات درست لگ رہے ہیں۔ آپ ان دو دستاویزات (آدھار، ووٹر کارڈ) کے ساتھ آگے بڑھیں۔ آپ ان دونوں دستاویزات (آدھار اور ووٹر کارڈ) کو شامل کریں گے… جہاں کہیں بھی آپ کو جعلسازی ملے گی، یہ ہر معاملے کی بنیاد پر ہوگی۔”یعنی عدالت کے اس تبصرہ کا مطلب یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو اپنے دستاویزات میں آدھار اور ووٹر کارڈ کو شامل کرنا چاہیے۔ عدالت نے ایک طرح سے الیکشن کمیشن کے اس تبصرہ کو مسترد کر دیا کہ آدھار، ووٹر کارڈ وغیرہ فرضی ہیں۔ عدالت کا ماننا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی دستاویز جعلی ہو سکتی ہے۔ عدالت نے اپنی پچھلی سماعت کے دوران بھی ایسا تبصرہ کیا تھا۔اس سے قبل جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس باغچی کی تعطیلاتی بنچ نے زبانی طور پر ریمارکس دیئے تھے کہ شہریت کا تعین الیکشن کمیشن کا کام نہیں ہے اور یہ مرکزی حکومت کا استحقاق ہے۔ بنچ نے الیکشن کمیشن سے بہار ایس آئی آر کے عمل میں آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ پر غور کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔ لیکن اس کے بعد کمیشن نے اپنا حلف نامہ داخل کیا، جس میں اس نے آدھار، ووٹر کارڈ اور راشن کارڈ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے واضح طور پر کہا کہ چونکہ یہ دستاویزات جعلی ہیں اس لیے انہیں قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔








