نئی دہلی، 26 جولائی (پریس ریلیز)
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، نئی دہلی میں ملک کے ممتاز عالم دین، مفکرِ ملت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل کی تصنیف ’’خطباتِ جمعہ (جلد دوم)‘‘ کا اجرا عمل میں آیا۔ یہ علمی کتاب 77 منتخب خطبات کا حسین گلدستہ ہے، جو اسلامی تعلیمات، اصلاحِ معاشرہ، سیرت و تاریخ، دینی شعور، زبان و ادب اور عدل و انصاف جیسے اہم موضوعات پر مشتمل ہے۔
اس موقع سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا: ’’ائمۂ کرام صرف نماز کے قائد نہیں، بلکہ وہ امت کے فکری و اخلاقی رہنما بھی ہیں۔ منبر و محراب سے دیا گیا ایک مؤثر خطاب، معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب کی یہ کتاب ائمہ کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے، جو فکری رہنمائی، سماجی بصیرت اور دینی حمیت کا حسین امتزاج ہے‘‘۔مولانا فضل الرحیم مجددی صاحب (جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم کتاب ہے، میں اس کے مضامین کو غور سے پڑھتا ہوں۔ علما، ائمہ اور مقررین کے لیے یہ نہایت مفید اور نفع بخش ثابت ہو رہی ہے۔
اس موقع پرکئی علمی، فقہی اور دینی مقتدر شخصیات نے شرکت کی ، جن میں بالخصوص مولانا عتیق احمد بستوی (کنوینر دارالقضاء کمیٹی، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)، مولانا مفتی عبیداللہ اسعدی (شیخ الحدیث جامعہ عربیہ ہتھوڑا، باندہ، یوپی)، مولاناقاضی محمد کامل صاحب (قاضی شریعت، دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ،دہلی)، مولانا محمد رضی الاسلام ندوی (سکریٹری، علماء و مساجد کمیٹی جماعت اسلامی ہند)اور مولانا مفتی قاضی محمد اشفاق (قاضی شریعت، دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈآکولہ، مہاراشٹر)، مولانا تبریز عالم قاسمی آرگنائزر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ جیسے علماء کرام شامل تھے۔تمام معزز شرکاء نے امیرشریعت مولانا انیس الرحمن قاسمی کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ:’’منبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جانے والا خطبہ محض رسمی یا مروّجہ گفتگو نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ اس میں فکری بالیدگی، علمی گہرائی اور معاشرتی بصیرت کا عنصر غالب ہونا چاہیے۔ ’’خطباتِ جمعہ‘‘ جیسی کتاب اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے اور ہمارے ائمہ کو جدید تقاضوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرتی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ کتاب کے مضامین میں قرآن و سنت کی تعلیمات، سیرتِ نبوی، شعائرِ اسلام، دینی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ، خواتین و نوجوانوں کی تربیت، نکاح وطلاق، عدل و انصاف، علمائے اسلام کی خدمات اور ہندوستانی تاریخ میں علما کا کردار جیسے اہم و متنوع موضوعات شامل ہیں۔ ان موضوعات کو آسان، عام فہم، مؤثر اور علمی انداز میں پیش کیا گیا ہے تاکہ ہر امام، خطیب اور دین دار فرد اس سے استفادہ کر سکے۔تقریب کے اختتام پر امیر شریعت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے تمام علمائے کرام و مشائخ عظام کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ‘یہ محض میری انفرادی کوشش نہیں، بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے جو منبر و محراب سے وابستہ ہر صاحبِ علم پر عائد ہوتا ہے۔ خطباتِ جمعہ کو چار جلدوں میں شائع کیا جا رہا ہے، جن میں تین سو سے زائد اہم موضوعات پر مشتمل مضامین شامل ہیں؛ تاکہ معاشرے میں فکری و اخلاقی بیداری کی ایک مؤثر مہم چلائی جاسکے۔یہ








