دہلی: اپنے نے نت نیے بیانات سے سرخیاں بٹورنے والے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر ایک نیا بیان دے کر ٹیک دنیا میں ہلچل مچادی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے امریکہ کی معروف ٹیک کمپنیاں جیسے کہ گوگل، مائیکروسافٹ، ایمیزون، اور میٹا (FAANG کمپنیاں) سے سخت انداز اور کب ولہجہ میں کہا ہے کہ وہ بھارت میں لوگوں کو نوکری دینا بند کریں اور صرف امریکی شہریوں کو ترجیح دیں۔ وہ پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: “ہماری ٹیک کمپنیاں امریکہ کی آزادی کا فائدہ اٹھا کر چین میں دفتر کھولتی ہیں، بھارت میں ملازمین بھرتی کرتی ہیں،اور منافع آئرلینڈ میں جمع کرتی ہیں۔ اب یہ سلسلہ مزید نہیں چلے گا۔” لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کمپنیاں واقعی ٹرمپ کی بات مانیں گی؟
امریکہ کے پاس انجینئرز کی کافی قلت بلکہ بحران ہے سچی بات یہ ہے کہ امریکہ میں ہر سال صرف تقریباً 1.5 لاکھ انجینئرز گریجویٹ ہوتے ہیں، جبکہ ٹیک سیکٹر کو لاکھوں افراد کی ضرورت ہوتی ہےامریکی سرکاری رپورٹ کے مطابق، اگلے چند سالوں میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ جیسے STEM شعبوں میں نوکریوں کی مانگ 11 فیصد تک بڑھے گی۔ اس کے برعکس، بھارت میں ہر سال 15 لاکھ سے زیادہ انجینئرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اگرچہ سب کی مہارت یکساں نہیں ہوتی، لیکن یہ ایک بڑا ٹیلنٹ پول ہے، جسے کمپنیاں منافع بخش سمجھتی ہیں۔ٹیک کمپنیاں بھارت میں ملازمتیں فراہم کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی دیکھتی ہیں کہ یہاں لاگت کم ہے۔ امریکہ میں ایک سافٹ ویئر ڈویلپر کی اوسط تنخواہ ₹1 کروڑ سے ₹1.7 کروڑ سالانہ ہے، جبکہ بھارت میں یہی کام ₹20 لاکھ یا اس سے بھی کم میں ممکن ہے۔ اس سے کمپنیاں ایک ساتھ کئی انجینئرز رکھ سکتی ہیں اور خرچ بچا سکتی ہیں۔
بعض ٹیک ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا بیان سیاسی اپیل ہے۔ قانونی طور پر وہ ان کمپنیوں کو ایسا کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اسی لیے اندازہ ہے کہ FAANG کمپنیاں بھارت میں بھرتی کا عمل جاری رکھیں گی۔ ممکن ہے امریکہ میں کچھ نئی بھرتیاں ہوں، لیکن بھارت کی جگہ لینا ممکن نہیں۔ بھارت کے لیے یہ فوری خطرہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں اس کی اہمیت برقرار رہے گی








