غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ غزہ پٹی میں مستقبل میں قائم کی جانے والی حکومتی انتظامیہ کا حصہ نہیں بنے گی۔
ایک عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے حماس کے ایک رہنما نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تنظیم کو غزہ کی گزرگاہوں یا امدادی سرگرمیوں کا کنٹرول سنبھالنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس نے حکومتی نظام میں شمولیت سے اجتناب کا فیصلہ کرلیا ہے۔
رہنما نے مزید کہا کہ نیویارک میں ہونے والی دو ریاستی حل کانفرنس نے فلسطینیوں کے حقوق کو اجاگر کیا، اور اس ضمن میں سعودی عرب کی حمایت پر ہم شکر گزار ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کی ان کوششوں کو سراہا جو فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل ہونے سے روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں
انہوں نے بتایا کہ فلسطینی عوام اور حماس پر شدید دباؤ ہے، تاہم جنگ بندی کے لیے تنظیم مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ پر قبضے کی دھمکی اسرائیل کی بدنیتی ظاہر کرتی ہے، اور یہ دھمکیاں یرغمالیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔واضح رہے عرب ۔ممالگ سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں کی منشا ہے کہ حماس کو غزہ کے کنٹرول سے الگ تھلگ کردیا جائے ،اسرائیل بھی یہی چاہتا ہے








