اردو
हिन्दी
اپریل 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اعتماد اور تعلقات کی اہمیت

8 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
30
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مجھے کچھ کہنا ہے:نازش احتشام اعظمی

(ضلع اعظم گڑھ کے معروف تاجرو سماجی کارکن محمد شاہد سنجری کی ایک فیس بک پوسٹ سے متاثر ہو کر یہ سطور اُن کے خیالات کو مزید وسعت دیتے ہوئے قلم بند کی گئی ہیں)
انسانی زندگی کی اس وسیع اور پیچیدہ کائنات میں، جہاں ہر لمحہ ایک نئی کہانی رقم کرتا ہے، تعلقات وہ مقدس دھاگے ہیں جو ہمارے وجود کو نہ صرف جوڑتے ہیں بلکہ اسے ایک حسین اور معنی خیز تصویر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ تصور کیجیے ایک تنہا روح کو، جو خالی پن کی وادیوں میں بھٹک رہی ہو، اور پھر اچانک کچھ رشتوں کی روشنی اسے زندگی کی رنگینیوں سے آشنا کر دے۔ چاہے یہ خاندانی بندھن ہوں، جو جڑوں کی طرح ہمیں استحکام بخشتے ہیں، یا رومانوی تعلقات جو دل کی دھڑکنوں کو ایک نئی لے عطا کرتے ہیں، یا پھر دوستانہ رفاقتیں جو ہنسی اور ہمدردی کی بارش کی طرح روح کو سیراب کرتی ہیں—یہ سب ہماری جذباتی صحت، ذہنی سکون اور شخصی نشوونما کی بنیاد ہیں۔ لیکن اس حسین تصویر کے پیچھے ایک گہری حقیقت چھپی ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ “تعلقات وقت سے نہیں، بلکہ اعتماد سے قائم رہتے ہیں۔” یہ نہ صرف ایک اقتباس ہے بلکہ زندگی کا ایک فلسفہ، جو ہمیں بتاتا ہے کہ تعلقات کی دیرپائی اور کامیابی کا راز اعتماد میں پنہاں ہے۔ اس کے ساتھ باہمی سمجھ بوجھ، خلوص اور ہمدردی جیسے عناصر مل کر ایک ایسا قلعہ تعمیر کرتے ہیں جو طوفانوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہ مضمون نہ صرف اعتماد کی اہمیت پر روشنی ڈالے گا بلکہ محبت کی ذمہ داریوں، انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں اور ان کو سمجھنے کے لیے درکار حکمت کی گہرائیوں میں اترے گا۔ ہم ایک ایسے سفر پر نکلیں گے جہاں جذبوں کی تپش اور عقل کی جولانی دونوں اپنا کردار ادا کریں گی، تاکہ آپ کی فکر کو نئی جہتیں ملیں اور دل کو ایک سحر انگیز احساس ہو۔
*اعتماد کی بنیاد*
یہ وہ نادیدہ قوت ہے جو رشتوں کو نہ صرف جوڑے رکھتی ہے بلکہ انہیں ایک زندہ، پھلنے پھولنے والے درخت کی طرح سرسبز بناتی ہے۔ تصور کیجیے ایک پل کو، جو دو ساحلوں کو ملاتا ہے؛ اگر اس کی بنیاد کمزور ہو تو یہ پل کبھی بھی مستحکم نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح اعتماد رشتوں کا وہ پل ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے۔ اسے نہ تو زبردستی حاصل کیا جا سکتا ہے، نہ ہی اسے خریدا جا سکتا ہے، اور نہ ہی مانگنے سے ملتا ہے۔ یہ تو سچائی کی مٹی میں اگتا ہے، مستقل مزاجی کی بارش سے سیراب ہوتا ہے، اور دل کی گہرائیوں سے کی گئی بات چیت کی روشنی سے پھلتا ہے۔ اعتماد ہی وہ عنصر ہے جو انسان کو اپنے اندرونی دنیا—خوف، خواب، احساسات اور کمزوریاں—کو دوسروں کے سامنے کھولنے میں محفوظ محسوس کرواتا ہے۔ جب اعتماد موجود ہو تو رشتہ ایک محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے، جہاں کوئی بھی طوفان نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن اگر اعتماد نہ ہو تو چاہے رشتہ برسوں کا ہو، شک کی ایک چھوٹی سی لہر اسے بہا لے جاتی ہے، اور عدم تحفظ کا بوجھ اسے توڑ دیتا ہے۔
یہ خیال کہ “تعلقات وقت سے نہیں، بلکہ اعتماد سے قائم رہتے ہیں” ایک عام غلط فہمی کو چیلنج کرتا ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ وقت گزارنے سے تعلق خود بخود مضبوط ہو جاتا ہے، جیسے کوئی پرانی شراب جو وقت کے ساتھ مزید لذیذ ہو جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت صرف مانوسیت پیدا کرتا ہے—ایک سطحی واقفیت جو بغیر گہرائی کے ہے۔ اعتماد ہی وہ جادو ہے جو قربت اور اپنائیت کو جنم دیتا ہے۔ ایک مختصر لمحہ، جہاں کوئی شخص آپ کو دل کی آنکھوں سے دیکھے، آپ کی بات کو سچے دل سے سنے، اور آپ کو بغیر کسی شرط کے قبول کرے، یہ برسوں کی سطحی بات چیت سے زیادہ طاقتور رشتہ قائم کر سکتا ہے۔ مثلاً، ایک دوست جو آپ کی مصیبت میں آپ کا ہاتھ تھام لے، یا ایک شریک حیات جو آپ کے خوابوں کو اپنے خوابوں سے جوڑ دے—یہ لمحات اعتماد کی بنیاد رکھتے ہیں۔
اعتماد کی پرورش ایک مسلسل عمل ہے، جو مستقل مزاجی کی محنت مانگتی ہے۔ وعدہ نبھانا، وقت کی پابندی کرنا، مشکل حالات میں ہمدردی کا اظہار کرنا—یہ چھوٹے چھوٹے عمل ہیں جو وقت کے ساتھ اعتماد کا ایک خزانہ تیار کرتے ہیں۔ یہ خزانہ ایسا ہے جو بحرانوں میں کام آتا ہے، جہاں رشتہ کی آزمائش ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، دھوکہ دہی، جھوٹ یا لاپرواہی اعتماد کو ایسے ختم کرتے ہیں جیسے ایک چھوٹی سی چنگاری ایک پورے جنگل کو جلا دے۔ فلسفیانہ طور پر دیکھیں تو اعتماد ایک وقتی عمل نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے—ایک نیت کی ضرورت جو ہر لمحے میں زندہ رہتی ہے۔ قدیم دانشور ارسطو نے کہا تھا کہ “دوستی کی بنیاد اعتماد پر ہے”، اور یہ بات آج بھی اتنی ہی سچی ہے۔ اعتماد کی یہ بنیاد نہ صرف ذاتی تعلقات کو مضبوط کرتی ہے بلکہ سماجی تانے بانے کو بھی استحکام بخشتی ہے، کیونکہ ایک اعتماد سے بھرپور معاشرہ ہی ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
*دوسروں کو اہمیت دینا اور سمجھنا*
اگرچہ جسمانی قربت تعلقات کو ایک خاص چاشنی دیتی ہے، جیسے ایک گلے ملنے سے دل کو سکون ملتا ہے، لیکن یہ ان کی کامیابی کے لیے ضروری نہیں۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں، جہاں ٹیکنالوجی نے فاصلوں کو مٹا دیا ہے، طویل دوریوں کے باوجود گہرے تعلقات ممکن ہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ دوسرا فرد خود کو قابل قدر اور سمجھا ہوا محسوس کرے۔ یہ احساس کیسے پیدا ہوتا ہے؟ فعال سننے، ہمدردی اور دوسرے کے جذبات میں سچی دلچسپی کے ذریعے۔ فعال سننے کا مطلب صرف الفاظ سننا نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپے جذبات، ارادوں اور درد کو سمجھنا ہے۔ جب کوئی شخص آپ کو سنتا ہے تو آپ خود کو محترم اور اہم محسوس کرتے ہیں، جیسے آپ کی آواز ایک خالی وادی میں گونجنے کی بجائے کسی کے دل میں اتر رہی ہو۔
ہمدردی تو تعلقات کی روح ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو ہمیں دوسروں کی جگہ پر کھڑے ہو کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب ہم ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ہم انسانیت کی ایک مشترکہ سطح پر آتے ہیں، جہاں درد بانٹا جاتا ہے اور خوشیاں دوگنی ہو جاتی ہیں۔ جیسا کہ ایک مشہور اقتباس ہے: “گہرے تعلقات وہ ہوتے ہیں جن میں شکایت کم اور سمجھ زیادہ ہوتی ہے۔” اس کا مطلب مسائل کو نظرانداز کرنا نہیں بلکہ انہیں ہمدردی اور حل کی نیت سے دیکھنا ہے۔ مضبوط تعلقات میں، ہم موجود چیزوں کے لیے شکر گزار ہوتے ہیں، نہ کہ کمیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ مثلاً، ایک رومانوی رشتے میں اگر کوئی پارٹنر آپ کے چھوٹے سے درد کو سمجھے اور اسے کم کرنے کی کوشش کرے، تو یہ رشتہ ایک سحر انگیز کہانی بن جاتا ہے۔ ہمدردی کی یہ روشنی نہ صرف ذاتی تعلقات کو روشن کرتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتی ہے، کیونکہ ایک ہمدرد معاشرہ ہی امن کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
لیکن یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہمدردی ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اگر ایک فریق ہمیشہ دے رہا ہو اور دوسرا صرف لے رہا ہو تو رشتہ عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے، دوسروں کو اہمیت دینا ایک فن ہے جو سیکھا جا سکتا ہے—چھوٹی چھوٹی چیزوں سے، جیسے ایک مسکراہٹ، ایک تحفہ یا ایک دل کی بات۔ یہ فن تعلقات کو نہ صرف مضبوط بناتا ہے بلکہ انہیں ایک ابدی یادگار بنا دیتا ہے۔
*مشروط محبت کی زنجیریں*
زندگی کی حسینیت میں کچھ تلخ حقیقتیں بھی شامل ہیں، اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعض لوگ محبت صرف تب کرتے ہیں جب انہیں فائدہ مل رہا ہو۔ یہ مشروط محبت ایک زنجیر کی طرح ہوتی ہے جو جذباتی مدد، مالی تحفظ یا سماجی حیثیت سے بندھی ہوتی ہے۔ جب یہ فائدے ختم ہوتے ہیں تو یہ زنجیر ٹوٹ جاتی ہے، اور رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہمیں چونکا دیتی ہے، کیونکہ ہم تعلقات کو خالص اور غیر مشروط سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں کئی رشتے خود غرضی کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطلب ہر رشتے کو شک کی نظر سے دیکھنا نہیں بلکہ حکمت اور بصیرت سے جانچنا ہے۔ ہر رشتہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا، اور ہر شخص جو ہماری زندگی میں آتا ہے، وہ خیرخواہ نہیں ہوتا۔ کسی تعلق کی گہرائی کو پرکھنے کے لیے دیکھیں کہ کیا یہ باہمی احترام اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہے؟ کیا یہ شخص آپ کو آپ کی ذات کی بنیاد پر چاہتا ہے یا صرف فائدوں کی وجہ سے؟ یہ سوال خاص طور پر رومانوی تعلقات میں اہم ہے، جہاں جذبات کی شدت سمجھ کو دھندلا دیتی ہے۔ محبت خوبصورت ہے، لیکن یہ ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہے—احتساب، عزت اور باہمی ترقی کی۔ ایک ایسا رشتہ جو صرف وقتی جذبات پر مبنی ہو، وہ ریت کی عمارت کی مانند ہوتا ہے، جو پہلی لہر میں بہہ جاتا ہے۔
فلسفیانہ طور پر، یہ مشروط محبت انسانی فطرت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ نٹشے نے کہا تھا کہ “محبت میں خود غرضی ہوتی ہے”، اور یہ بات کئی رشتوں میں سچی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن اس تلخی سے سبق سیکھ کر ہم بہتر رشتے قائم کر سکتے ہیں، جو خالص اور غیر مشروط ہوں۔
*تعلقات میں حکمت کا کردار*
رشتوں کی تعمیر دل کا معاملہ ہے، لیکن اس میں عقل اور حکمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جذباتی ذہانت—اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنا اور سنبھالنا—صحت مند رشتوں کا لازمی جزو ہے۔ یہ حکمت یہ جاننے میں ہے کہ کب حد مقرر کرنی ہے، کب معاف کرنا ہے، اور کب رشتہ ختم کر دینا بہتر ہے۔ حد مقرر کرنا خود کی عزت کا اظہار ہے—یہ دیواریں نہیں بلکہ رہنما اصول ہیں جو محفوظ ماحول بناتے ہیں۔
معافی بھی ایک حکمت ہے۔ ہر انسان خطا کرتا ہے، اور معاف کرنے کی صلاحیت رشتوں کو شفا بخشتی ہے۔ لیکن بار بار کی زیادتی کو برداشت کرنا ناانصافی ہے۔ حکمت یہ جاننے میں ہے کہ کب معافی مضبوط کرتی ہے اور کب یہ زہر بڑھاتی ہے۔ بعض اوقات، رشتہ ختم کرنا دانشمندی ہے، خاص طور پر اگر یہ زہریلا ہو۔ یہ رخصتی نئی شروعات کا دروازہ کھولتی ہے۔ حکمت کا یہ کردار تعلقات کو نہ صرف بچاتا ہے بلکہ انہیں مزید گہرا بناتا ہے، جیسے ایک باغبان جو مردہ شاخوں کو کاٹ کر درخت کو نئی زندگی دیتا ہے۔
*محبت کی ذمہ داریاں*
محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے—کوشش، صبر اور دوسرے کی خوشی سے وابستگی کی۔ دوستوں میں یہ بھروسے کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے، رومانوی رشتوں میں قربت اور سہارے میں، اور خاندان میں توازن میں۔ اخلاص کی ذمہ داری سب سے گہری ہے—اپنی اصل ذات کے ساتھ جینا اور دوسروں کو قبول کرنا۔ باہمی ترقی بھی ایک ذمہ داری ہے، جہاں ایک دوسرے کی کامیابیوں کا جشن منایا جائے اور چیلنجز میں سہارا دیا جائے۔ یہ ذمہ داریاں محبت کو ایک مقدس عہد بناتی ہیں، جو زندگی کو معنی بخشتی ہیں۔
*گہرائی اور سچائی کی پرکھ*
دیرپا تعلقات کے لیے گہرائی اور سچائی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیا دونوں فریق سنجیدہ ہیں؟ کیا احترام موجود ہے؟ مستقل مزاجی اور باہمی رد و بدل اس کی نشانیاں ہیں۔ گہرائی مشترکہ تجربات سے پیدا ہوتی ہے، جو رشتے کو ابدی بناتی ہے۔ یہ پرکھ ایک اندرونی آئینہ ہے جو ہمیں سچ دکھاتا ہے۔
*نتیجہ*ایک تیز رفتار دنیا میں، تعلقات انسانی ربط کی خوبصورتی یاد دلاتے ہیں۔ اعتماد، سمجھ اور حکمت سے پروان چڑھائے گئے رشتے زندگی کو طاقت اور خوشی دیتے ہیں۔ تلخ حقیقتیں بھی سبق دیتی ہیں، تاکہ ہم خالص رشتوں کا انتخاب کریں۔ آخرکار، تعلقات ہماری محبت کی صلاحیت کا عکس ہیں—جو شعور سے پروان چڑھ کر ابدی ہو جاتے ہیں۔

ٹیگ: nazish ehtesham azmiThe importance ،of trust relationships،article

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
UGC Vande Mataram News

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

اپریل 10, 2026
Abdullah Salim Qasmi Apology News

مولاناُعبداللہ سالم قاسمی لنگڑاتے ہوئے تھانے پہنچے، نازیبا بیان کے لئے ہاتھ جوڑکر معافی مانگی، ویڈیو سامنے آیا

مارچ 31, 2026
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

UGC Vande Mataram News

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

LPG Crisis Workers Crowd News

آگھر لوٹ چلیں: ایل پی جی بحران۔فیکٹریوں میں تالا، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کی بھیڑ، بھگدڑ جیسے حالات

Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
UGC Vande Mataram News

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

اپریل 10, 2026
LPG Crisis Workers Crowd News

آگھر لوٹ چلیں: ایل پی جی بحران۔فیکٹریوں میں تالا، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کی بھیڑ، بھگدڑ جیسے حالات

مارچ 31, 2026

حالیہ خبریں

Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN