نئی دہلی: 12 اگست، 2025 کو – جس دن سپریم کورٹ نے دی وائر کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، جس میں سیڈیشن کے نئے قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا اور جولائی میں موریگاؤں میں درج ایک معاملے میں بانی مدیر سدھارتھ وردراجن سمیت اس کے تمام صحافیوں کو آسام پولیس کی جانب سے کسی بھی ‘تعزیری کارروائی’ سے تحفظ فراہم کیا- ٹھیک اسی دن گوہاٹی پولیس کی کرائم برانچ نے ریاستی پولیس کی جانب سے درج ایک نئے ’سیڈیشن‘ کیس میں سدھارتھ وردراجن اور سینئر صحافی کرن تھاپر کوطلب کیا۔آسام پولیس کےانسپکٹر سومر جیوتی رے کے ذریعے بی این ایس ایس کی دفعہ 35(3) کے تحت وردراجن کو جاری کردہ سمن میں کرائم برانچ، پان بازار، گوہاٹی میں دفعہ 152، 196، 197 (1) (ڈی)/3 (6)، 353، 45 اور 61 کے تحت درج ایک ایف آئی آر (03/2025) کا حوالہ دیا گیا ہے۔تاہم، ایف آئی آر کی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، نہ ہی مبینہ جرم کی کوئی تفصیلات دی گئی ہیں، اور نہ ہی ایف آئی آر کی کاپی فراہم کی گئی ہے –بی این ایس ایس کی اس دفعہ کے تحت سمن جاری کرتے وقت پولیس ان سب کی جانکاری دینے کے لیے قانونی طور پر پابند ہے۔یہ سمن دی وائر کے دفتر کو 14 اگست کو موصول ہوا تھا۔ سوموار (18 اگست) کو اسی ایف آئی آر کے لیے تھاپر کے نام بھی ایسا ہی سمن موصول ہوا
سدھارتھ وردراجن اور تھاپر دونوں کو جمعہ 22 اگست کو گوہاٹی کے پان بازار میں کرائم برانچ کے دفتر میں حاضر ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے سمن میں کہا گیا ہے، ‘موجودہ تفتیش کے سلسلے میں حقائق اور حالات کا پتہ لگانے کے لیے آپ سے پوچھ گچھ ک ہےـ رنے کے لیے معقول بنیادیں موجود ہیں۔اس نوٹس کی شرائط کی تعمیل/ پیش ہونے میں ناکامی آپ کو گرفتار کرنے کا باعث ہو سکتی ہےـ غور طلب ہے کہ وردراجن کے خلاف موریگاؤں میں 11 جولائی 2025 کو درج کی گئی ایف آئی آر 28 جون 2025 کو دی وائر میں شائع ہونے والی ایک خبر(‘آئی اے ایف لوسٹ فائٹر جیٹز ٹو پاک بی کاز آف پالیٹکل لیڈرشپز کونسٹرینٹس’: انڈین ڈیفنس اتاشی‘ ) پر بی جے پی کے ایک کارکن کی طرف سے درج کی گئی شکایت سے متعلق ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کرائم برانچ کی ایف آئی آر کا تعلق کس مضمون یا ویڈیو سے ہے ـ یہاں تک کہ موریگاؤں کیس میں بھی جیسا کہ دی وائر کے وکیل نتیا رام کرشنن نے سپریم کورٹ کو بتایا، ایف آئی آر کو خفیہ رکھا گیا تھا اور قابل اعتماد ذرائع سے ہی شکایت، ایف آئی آر کی تاریخ ‘ لگائی گئی فوجداری کی دفعات کا پتہ لگانا ممکن ہو پایاـ اسی بنیاد پر دی وائر نے سیڈیشن ایکٹ کی دفعہ 152 کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں درخواست کی اور جسٹس سوریہ کانت اور جوائے مالیہ باگچی کی بنچ نے نوٹس جاری کیاـ بی این ایس کی دفعہ 152 (‘ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیاں’) ہندوستان کی سابقہ سیڈیشن کی دفعات (انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 124اے) کا ایک نیا ورژن ہے، جسے سپریم کورٹ نے 2022 میں ختم کر دیا تھا
اسن کے جواب میں وردراجن اور تھاپر نے سپریم کورٹ کی طرف سے ایف آئی آر کو عام کرنے اور ملزمین کو اس کی کاپیاں دینے کی ضرورت کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر کی کاپی کے بغیر پولیس کا سمن ناقابل قبول ہے بشکریہ دی وائر








