بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل میں آٹھ سرحدی اضلاع میں سب سے زیادہ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے ذرائع کے مطابق ان اضلاع میں ووٹروں کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات میں پائی جانے والی خامیوں، غلط دستاویزات جمع کرانے یا شہریت سمیت اہلیت پر شکوک و شبہات کی وجہ سے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
***ان اضلاع پر خصوصی توجہ ۔
ہندوستان-نیپال اور ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد سے ملحقہ آٹھ اضلاع مشرقی چمپارن، مغربی چمپارن، مدھوبنی، کشن گنج، پورنیہ، کٹیہار، ارریہ اور سپول میں دستاویزات کی تصدیق میں سب سے زیادہ بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ ان اضلاع میں ووٹر لسٹ میں شامل افراد کی طرف سے یا تو کوئی معاون دستاویزات جمع نہیں کرائے گئے، یا غلط دستاویزات جمع کرائے گئے، یا ان کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا۔ لیکن ان اضلاع میں دلت اور مسلم آبادی بہت زیادہ ہے۔الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ ان اضلاع میں الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) نے اس ہفتے کے شروع میں گنتی کے فارموں کی جانچ شروع کردی اور نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ سماعت آئندہ ہفتے سے شروع ہوگی۔ مثال کے طور پر مشرقی چمپارن کے رکسول اسمبلی حلقہ میں پہلی سماعت 3 ستمبر کو ہوگی جبکہ مدھوبنی اسمبلی حلقہ میں پہلی سماعت 7 ستمبر 2025 کو مقرر کی گئی ہے۔
***نوٹس اور سماعت کا طریقہ کار
جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے جمع کرائی گئی دستاویزات غیر تسلی بخش ہیں۔ ووٹرز سے کہا گیا ہے کہ وہ مقررہ وقت اور جگہ پر اصل دستاویزات کے ساتھ ای آر او کے سامنے حاضر ہوں۔ ECI کے 24 جون کے حکم کے مطابق، ERO کو تمام دعووں کی جانچ کرنے، از خود نوٹس لینے اور کسی بھی ووٹر کو نوٹس جاری کرنے کا اختیار ہے۔ اگر سماعت کے بعد کسی شخص کا نام حتمی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے تو ای آر او کو اس کے لیے ’’اسپیکنگ آرڈر‘‘ جاری کرنا ہوگا، جس میں ہٹانے کی وجوہات بتائی جائیں گی۔








