اسرائیلی ریاست جس کے وزیر اعظم کے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم کے الزام کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں ۔ اس کے وزیر اعظم کو دنیا کے سب سے بڑے فورم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے روائتی راستے کے بجائے لمبے راستے سے امریکہ آنا پڑا ہے۔
انہیں یہ لمبا راستہ ان ملکوں کی وجہ سے لینا پڑا جو بین الاقوامی فوجداری عدالت اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرتی ہیں اور نیتن یاہو کو خوف تھا کہ وہ قانون کی بالادستی کے لیے گرفتار کر سکتی ہیں۔نیتن یاہو اپنی غزہ جنگ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو درست کرنے کی خواہش لے کر راستے کی گرفتاری سے ڈرتے ہوئے اور بچتے بچاتے جمعرات کو امریکہ پہنچے ہیں۔ امکانی طور پر جمعہ کے روز نیتن یاہو کو جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا ہوگا۔
اسرائیلی وزیر اعظم اس کے باوجود فرانس کی فضائی حدود سے بچ کر پہنچے ہیں کہ فرانس نے اسرائیلیوں کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے۔ فرانس کے سفارتی ذرائع نے ‘ اے ایف پی ‘ کو بتایا ہے کہ نیتن یاہو نے معمول کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے جنوب کے راستے سے امریکہ پہنچنے کی کوشش کی۔اپنے بدلے ہوئے راستے کے لیے نیتن یاہو نے یونان اور اٹلی کی فضاؤں سے آگے بڑھتے ہوئے جنوب میں جبرالٹر کی پٹی پر سفر کیا اور بعد ازاں اٹلانٹک میں داخل ہوئے۔یاد رہے اٹلی میں پچھلے روز غزہ جنگ کے خلاف سخت احتجاج ہوا اور مظاہرین اپنی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اٹلی بھی دوسرے اہم یورپی ملکوں کی طرح فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔ دوسری جانب یونان کے نزدیک دو روز قبل صمود فلوٹیلا پر غزہ کی طرف بڑھنے کی وجہ سے ڈرون حملے کیے گئے ۔
ادھر اسرائیلی میڈیا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نیتن یاہو کا جہاز ان ملکوں سے گزرنے سے گریز کر کے امریکہ پہنچا ہے جو معاہدہ روم کے دسخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔ اس لیے ان سے خطرہ ہو سکتا تھا کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل کرتے۔یاد رہے ماہ فروری میں بھی نیتن یاہو اسی طرح چھپتے چھپاتے بچتے بچاتے امریکہ پہنچے تھے۔ بین الاقومی فوجداری عدالت نے پچھلے سال نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے غزہ جنگ میں جرائم کی بنیاد پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
سپین نے ابھی پچھلے ہفتے ہی فوجداری عدالت کی حمایت کا اس سلسلے میں بھی اعادہ کیا ہے کہ عدالتی ٹیم غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گی۔نیتن یاہو جمعہ کے روز جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور بعد ازاں امریکی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاوس میں ملیں گے۔ نیتن یاہو کے اتحادی ملک بھارت کے وزیر اعظم مودی نے ماہ مئی میں پاکستان کے خلاف اپنی رافیل فیم جنگ کے اثرات کی وجہ سے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ذاتی طور پر غیر حاضر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔







