غزہ کے حصے بخرے کرنے اور حماس کو آوٹ کرنے کے ٹرمپ کے مجوزہ پلان پر کم وبیش اسرائیل کے سارے خفیہ و علانیہ اتحادی متفق نظر آتے ـ یہ مجوزہ منصوبہ حال ہی میں پیش کیا گیا ہے اور ٹرمپ کا نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد ایک بیان آیا ہے کہ ہم جلد جنگبندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق ایک معاہدہ پر پہنچ جائیں گے ـسوال اب بھی یہی ہے کہ کیا حماس کو مائینس کرکے کسی سمجھوتے پر پہنچا جاسکتا ہے اسی دوران ایک سابق پلئیر کا نام ابھر کر آیا ہے جس کا نام ٹونی بلئیر ہے ،بتایا جارہا ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمجھوتہ کے نتیجہ میں غزہ کا انتظام سنبھال سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں جو امن منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے اس میں غزہ کے لیے ایک عارضی انتظامیہ کے قیام کی بات ہے ۔ اسے غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی یا GITA کہا جا رہا ہے۔
اس کا مقصد واضح ہے۔ جنگ کے بعد اقتدار کا خلاء نہ ہونے پائے۔غزہ کی تعمیر نو اور سیکورٹی کو برقرار رکھنا۔ اسے بتدریج مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ضم کرنے کی بھی تیاریاں کی جائیں گی۔ منصوبہ بندی اور بین الاقوامی رابطہ کاری کی سہولت کے لیے GITA کا صدر دفتر ابتدائی طور پر العریش، مصر میں ہوگا۔ بعد میں جب حالات مستحکم ہوں گے تو یہ غزہ میں داخل ہو جائے گا۔ عرب فوجیوں سمیت ایک کثیر القومی سیکورٹی فورس بھی تعینات ہوگی۔ ٹونی بلیئر کا کردار اہم ہے۔ وہ بورڈ کے چیئرمین بن سکتے ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک یا دو فلسطینی نمائندے، اقوام متحدہ کے حکام اور دیگر بین الاقوامی شخصیات بھی ہوں گی۔
ٹرمپ کا مجوزہ نظام کیسا ہوگا؟
••بورڈ کے نیچے پانچ چیف کمشنر
•• انسانی ہمدردی کے کاموں کی نگرانی کریں گے
••تعمیر نو اور انفراسٹرکچر کی نگرانی ••سیکورٹی اور ایک نئی پولیس فورس ••قانون اور جائیداد کے حقوق کا تحفظ ••فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہم آہنگی
**ٹونی بلیئر کے نام پر اعتراض؟
بہت سے لوگ بلیئر کے نام سے غیر مطمئن ہیں۔ لوگ عراق جنگ کے لیے ان کی حمایت اور مشرق وسطیٰ کے سفیر کے طور پر ان کی تاریخ کو یاد کرتے ہیں۔ بعض انہیں قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ کچھ ان کی کھلی مخالفت کریں گے۔ ٹرمپ اور عرب رہنماؤں کی ملاقات ہوئی ہے۔ سعودی عرب، مصر اور قطر نے بھی مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے لیکن وہ غزہ میں اقتدار کی منتقلی کب اور کیسے ہوگی اس کے لیے ایک واضح روڈ میپ چاہتے ہیں
فلسطینی اتھارٹی کے محمود عباس نے کہا ہے کہ حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ غزہ کی حکمرانی فلسطینی ریاست کا حصہ ہے۔ وہ ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔ اسرائیل کا موقف بھی اہم ہے۔ نیتن یاہو نے حماس کو تباہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے GITA کے ساتھ “ساختی تعاون” کا اشارہ دیا ہے، لیکن عوامی طور پر اس کی توثیق نہیں کی ہے۔یرغمالیوں کا مسئلہ بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے میں مستقل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔ حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ دیگر تجاویز بھی ہیں۔ نیویارک اعلامیہ میں صرف ایک سال کی عبوری مدت دی گئی ہے جس کے بعد اقتدار فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ کا منصوبہ ایک طویل مدتی منتقلی پر زور دیتا ہے۔news18کے ان پٹ کے ساتھ








