بریلی کے ایس ایس پی انوراگ آریہ نے کہا کہ 30 ستمبر تک بریلی فسادات میں 10 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 73 ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا
دی کوئینٹ ہندی کی بریلی فساد پر ایک رپورٹ کے مطابق 38 دکانوں کو ریڈ کراس کے نشان سے سیل کیا گیا۔بریلی تنازعہ کے بعد پولیس نے ناولٹی چوک پر کلاک ٹاور کے قریب لگ بھگ 38 دکانوں کو سیل کر دیا۔ مقامی صحافی سنجے شرما کے مطابق یہاں کل 54 دکانیں ہیں جو بنیادی طور پر اقلیتی کمیونٹی کی ملکیت ہیں۔ ان کا بنیادی کاروبار ریڈی میڈ گارمنٹس اور جوتے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کی ٹیم نے ان دکانوں کو غیر قانونی قرار دے کر خالی کرا لیا۔
مقامی دکانداروں نے الزام لگایا کہ میونسپل کارپوریشن نے انہیں بغیر کسی نوٹس کے تین گھنٹے کے اندر دکانیں خالی کرنے کا حکم دیا۔ یہ دکانیں وقف بورڈ کی اراضی پر بنائی گئی تھیں۔ زمین کی ملکیت کے حوالے سے میونسپل کارپوریشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، لیکن ان کے پاس عدالت سے حکم امتناعی ہے۔بریلی میونسپل کمشنر سنجیو کمار موریہ نے کہا کہ کئی کثیر المنزلہ دکانیں ایک نالے پر تجاوزات بنا کر تعمیر کی گئی تھیں، اور پیشگی نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ دکانیں خالی کرنے سے انکار پر میونسپل کارپوریشن کی ٹیم نے کارروائی کی۔ دکانوں کے درمیان ایک IMC دفتر بھی واقع ہے۔ یہ وقف املاک نہیں ہے، کیونکہ یہ معاملہ پہلے میونسپل کارپوریشن کی توجہ میں آیا تھا۔ اسے حل کر لیا گیا ہے۔ یہ ایک غیر قانونی پراپرٹی ہے اور نالے اور سڑک کے کنارے بنائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر نے کہا کہ آزاد ادھیکار سینا کے ایک وفد نے بریلی کا دورہ کیا اور اس واقعہ سے متعلق اہم معلومات حاصل کیں، جس کی بنیاد پر انہوں نے یوپی کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا،
**جائے وقوعہ پر وفد نے جن لوگوں سے بات کی وہ خوفزدہ اور خوفزدہ نظر آئے۔ ان کی گفتگو سے واضح تھا کہ انہیں پولیس انتظامیہ نے انتہائی خوف کی حالت میں رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے کھل کر مکمل سچائی ظاہر نہیں کر رہے۔
**جائے وقوعہ پر واضح ہے کہ پولیس فورس مطلوبہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے جس کا بنیادی اور بنیادی مقصد مقامی آبادی کو خوف میں مبتلا رکھنا ہے۔
**اس واقعے کے بعد سے بریلی میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش سے عوام کو خاصی تکلیف ہوئی ہے اور شہر بھر میں کاروبار اور معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
**انٹرنیٹ بندش کے باعث بہت سے لوگ واقعے سے متعلق اپنے حقائق بتانے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے واقعے کی مکمل حقیقت سامنے نہیں آ رہی ہے۔
**جائے وقوعہ کے قریب موجود کئی تاجروں نے بتایا کہ انہیں مقامی پولیس انتظامیہ نے واقعہ سے قبل اپنی دکانیں بند کرنے کی ہدایت کی تھی جس سے یقیناً انتظامیہ کی نیتوں پر شدید شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
(نوٹ یہ رپورٹ 30ستمبر کو شائع ہوئی ،اعداوشمار اسی کے مطابق ہیں )







