امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام ) نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ امن منصوبے پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر غیرمسلح ہوجائے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایکس اکاؤنٹ پر کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ایڈمرل بریڈ کوپر نے موجودہ صورتحال کو ’ امن کے لیے ایک تاریخی موقع’ قرار دیا اور زور دیا کہ حماس کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے، صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر سختی سے عمل کرتے ہوئے، بلاتاخیر غیر مسلح ہو جائے۔ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکا نے امن عمل میں شامل ثالثوں کے سامنے اپنے خدشات رکھے ہیں اور انہوں ( ثالثوں ) نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا ہے تاکہ جنگ بندی کو نافذ کیا جا سکے اور غزہ کے شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حماس نے کوپر کے بیان پر تاحال کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم تنظیم نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا ہے کہ اس کی کارروائیاں عام شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ ان افراد کے خلاف ہیں جو جنگ کے دوران پیدا ہونے والے حالات سے فائدہ اٹھانے والے مجرم گروہوں اور مبینہ تعاون کاروں کو نشانہ بناتی ہیں۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں علاقائی اور بین الاقوامی رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک سیاسی عمل شروع کرنے پر زور دیا
دوسری جانب امریکی صدرٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر حماس جنگ بندی کے معاہدے کی اپنی شرائط پر عمل نہیں کرتی تو وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر غور کریں گے۔
امریکی نشریاتی سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ اسرائیلی فورسز جیسے ہی میں کہوں گا، دوبارہ سڑکوں پر آ جائیں گی۔ جو کچھ حماس کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ بہت جلد ٹھیک کر دیا جائے گا۔ٹرمپ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ معاہدے کی اس شرط پر عمل نہیں کر رہی جس کے تحت اسے تمام مغویوں ، زندہ اور مردہ ، کو واپس کرنا تھا۔









