نئی دہلی:
جموں وکشمیر کے موضوع پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ کے بعد اسمبلی انتخابات کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ حکومت، مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں جمہوری عمل شروع کرنے کے لئے انتخابات کراسکتا ہے۔ حالانکہ اس کے لئے حد بندی جلد مکمل کرنا ہوگا۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، مرکزی حکومت اس سال دسمبر سے آئندہ سال مارچ 2022 کے د رمیان انتخابات کراسکتی ہے۔ واضح رہے کہ اسی وقت اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں بھی اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ اسی ضمن میں حکومت چاہتی ہے کہ جلد ازجلد حد بندی کا کام مکمل کرلیا جائے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی جمعرات کو کہا ہے کہ جموں وکشمری میں جاری حد بندی کے عمل کو تیزی سے مکمل کرنا ہے تاکہ وہاں اسمبلی انتخابات کرائے جاسکیں اور ایک منتخب حکومت کی تشکیل ہوسکے، جو ریاست کی ترقی کی مضبوطی دے۔ ذرائع کے مطابق، جموں وکشمیر کے 14 سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ ساڑھے تین گھنٹے کی میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے اس میں شامل لیڈروں کو کشمیر میں ہر موت کے حادثہ پر ذاتی غم کا اظہار کیا، چاہے وہ بے قصور شہری کی ہو، کسی کشمیری لڑکے کی ہو، جس نے بندوق اٹھائی تھی یا سیکورٹی اہلکاروں کے کسی رکن کی ہو۔
وزیر اعظم مودی نے میٹنگ کے بعد کئی ٹوئٹ کرکے کہا کہ ایک ترقی یافتہ اور ترقی پسند تبادلہ خیال میں جموں وکشمیر کی سمت میں چل رہی کوششوں میں ایک اہم قدم تھا، جہاں ہمہ جہت ترقی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہماری ترجیح جموں وکشمیر میں زمینی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے۔ حد بندی تیز رفتار سے ہونا ہے تاکہ وہاں انتخابات ہوسکیں اور جموں وکشمیر کو ایک منتخب حکومت ملے، جو جموں وکشمیر کی ترقی کو مضبوطی دے‘۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ ریٹائرڈ جج رنجنا پرکاش دیسائی کی قیادت والے پینل کو مرکز کے زیر انتظام ریاست میں حد بندی کی ذمہ داری ملی ہے۔ مرکزی حکومت نے اگست 2019 میں سابقہ جموں وکشمیر ریاست کا خصوصہ درجہ ختم کردیا تھا اور اس کی تشکیل نو کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یہ مرکز کے زیر انتظام ریاست کا وجود اکتوبر، 2019 میں آیا۔ حد بندی کی قواعد کے بعد جموں وکشمیر میں اسمبلی سیٹوں کی تعداد 83 سے بڑھ کر 90 ہوجائے گی۔ اسمبلی کی 24 سیٹیں پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں آنے کی وجہ سے خالی رہتی ہیں۔










