فرید آباد میں واقع الفلاح میڈیکل کالج دہلی کے لال قلعہ کے قریب کار بم دھماکے کی تحقیقات میں زیر تفتیش ہے۔ اب وہ دیگر معاملہ میں بھی پھنستی نظر آرہی ہے ،وہیں ای ڈی کی بھی انٹری ہوگئی ہے ـ دریں اثنا، خبر ملی ہے کہ نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) نے الفلاح یونیورسٹی کو اپنی ویب سائٹ پر غلط ایکریڈیٹیشن ظاہر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔
درحقیقت، الفلاح یونیورسٹی، جس کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، کو NAAC کی جانب سے ایکریڈیشن کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
**نوٹس میں کیا کہا گیا ہے؟
نوٹس میں کہا گیا ہے، "… NAAC کے نوٹس میں لایا گیا ہے کہ الفلاح یونیورسٹی نے A&A کے لیے نہ تو ایکریڈیٹیشن حاصل کی ہے اور نہ ہی سائیکل 1 میں حصہ لیا ہے۔ اس نے اپنی ویب سائٹ پر عوامی طور پر ظاہر کیا ہے کہ” الفلاح یونیورسٹی الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کا ایک منصوبہ ہے، جو کیمپس میں تین کالج چلاتا ہے۔
الفلاح سکول آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (1997 سے، NAAC نے A گریڈ کیا)، براؤن ہل کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (2008 سے)، اور الفلاح سکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (2006 سے، NAAC نے A کو درجہ دیا)۔ جو کہ مکمل طور پر غلط ہے اور عوام بالخصوص والدین، طلباء اور اسٹیک ہولڈرز کو گمراہ کر رہا ہے۔”
واضح رہے کہ جموں و کشمیر پولیس اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی مشترکہ ٹیم نے کالج کیمپس میں چھاپہ مارا۔ تحقیقات کے دوران الفلاح یونیورسٹی کے کمرہ نمبر 4 اور کمرہ نمبر 13 سے دو ڈائریاں برآمد ہوئیں۔ ان ڈائریوں میں خفیہ کوڈز بھی تھے، جنہیں دہلی بم دھماکوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
ای ڈی کی انٹری :دریں اثنا، مرکزی تفتیشی ایجنسیاں اس کیس کے پیچھے سچائی کا پردہ فاش کرنے میں مصروف ہیں۔ ای ڈی کی تحقیقات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کیس صرف دہشت گردانہ حملے سے متعلق نہیں ہے، بلکہ اس میں مالی بے ضابطگیوں کا امکان بھی شامل ہے۔ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے، اور الفلاح یونیورسٹی کے ہر پہلو کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔








