وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو 10 کھرب ڈالر تک بڑھائیں گے۔
ٹرمپ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس کی تصدیق کرتے ہیں تو محمد بن سلمان نے کہا ’ضرور۔‘ٹرمپ نے اسے ’بہت اچھا‘ کہا اور اس پر سعودی ولی عہد کو داد بھی دی۔
ایک صحافی نے ٹرمپ اور ولی عہد سے پوچھا کہ کیا وہ امریکہ-سعودی دفاعی معاہدے پر سمجھوتہ کر چکے ہیں اور کیا انھوں نے ’ابراہیم معاہدہے‘ کے بارے میں بات کی ہے۔
2020 کے ابراہم معاہدے، جو کہ امریکہ کی ثالثی میں کیے گئے تھے، میں متحدہ عرب امارات سمیت کچھ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ولی عہد کا کہنا ہے کہ ’ہم معاہدے کا حصہ بننا چاہتے ہیں‘ لیکن انھوں نے مزید کہا کہ وہ یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دو ریاستی حل کے لیے کوئی واضح راستہ موجود ہو۔ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ٹرمپ کے ساتھ ان کی ’اچھی گفتگو‘ ہوئی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کے بارے میں ’بہت اچھی بات چیت‘ کی۔ انھوں نے ’ایک ریاست، دو ریاستوں۔۔۔ بہت سی چیزوں پر بات ہوئی۔‘اس کے بعد ٹرمپ نے سعودی ولی عہد سے پوچھا کہ کیا اس کے بارے میں ان کے ’اچھے تاثرات ہیں؟‘ تو انھیں جواب ملا ’ہاں ضرور۔‘دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’کافی حد تک‘ ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔
واضح ہو کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد یہ محمد بن سلمان کا پہلا دورۂ امریکہ ہے۔ 2018 کے دوران امریکہ میں مقیم کالم نگار خاشقجی، جو سعودی اندرونی سیاست کے بڑے ناقد تھے، سعودی ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے جس کے بعد عالمی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تامریکی انٹیلی جنس نے بعد میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ محمد بن سلمان نے اس آپریشن کی منظوری دی تھی۔ اگرچہ ولی عہد نے کسی پیشگی معلومات سے انکار کیا تاہم انھوں نے بطور سعودی رہنما اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔








