لکھنؤ :
اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ’د ی انڈین ایکسپریس ‘ سے خصوصی بات کرتے ہوئے ’ لیو جہاد ‘ قومی سلامتی ایکٹ ( این ایس اے) کے استعمال اور عام شہریوں اور صحافیوں کے خلاف ملک سے غداری کے الزام سے جڑے کئی سوالوں کا جواب دیا۔
‘انڈین ایکسپریس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اننت گوینکا اور پولیٹکل ایڈیٹر اور نیشنل بیورو چیف رویش تیواری سے ’ای – اڈہ ‘ پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے دعویٰ کیا کہ سرکار کی کوئی بھی کارروائی تصب سے متاثر نہیں تھی، اور یہ ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہر شہر ی کو تحفظ فراہم کرے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ انتظامیہ کے ذریعہ وقت پر کی گئی کارروائی کے نتیجے میں ریاست میں کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا ہے ۔
آن لائن جن ستا کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ یوگی نے کہاکہ سماج وادی پارٹی کے اقتدار کے دوران ریاست میں 300 سے زیادہ فساد ہوئے تھے۔ ہماری سرکار کے چار سال سے زیادہ وقت میں ایک بھی فساد نہیں ہوا ہے ۔ اترپردیش اب سب سے محفوظ ریاستوں میں سے ایک ہے اور اس کا قانونی نظام دوسروں کے لیے ایک مثال ہے ۔
آدتیہ ناتھ نے کہاکہ بغاوت یا این ایس اے کے الزامات صرف ان لوگوں کے خلاف لائے گئے ہیں جنہوںنے جان بوجھ کر قانون اپنے ہاتھ میں لیا اور ریاست میں بدانتظامی اور انتشار پیدا کرنے اور سسٹم کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔
یوپی کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی معاملہ تعصب سے متاثر نہیں کیا تھا… ہم سب جانتے ہیں کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران کس طرح کے منصوبے بنائے جارہے تھے۔ ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے… ہمارا ایسا (صحافیوں پر الزام لگانے کا) کوئی ارادہ نہیں ہے ، لیکن اگر کوئی دو فرقوں کو آپس میں لڑاکر ماحول خراب کرنا چاہتا ہے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم وقت رہتے اس پر قابو پالیں اور لوگو ں کے سامنے سچ لائیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ مبینہ ’ لیو جہاد‘ قانون ،مبینہ تبدیلی مذہب کے تقریباً 100 معاملے سامنے آنے کے بعد لایا گیا ہے ۔ملزمین کی ترغیب اور فنڈنگ کو سمجھنے کو لیے ٹیموں کو تشکیل دی گئی تھی ۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ قانون کسی خاص طبقہ کو ٹارگیٹ نہیں کرتا ۔
یوگی نے کہاکہ کیرل ہائی کورٹ نے 2009 میں لیو جہاد کے بارے میں بات کی اور کہا تھا کہ لیو جہاد کیرل جیسی ریاست کو اسلامک ریاست میں بدلنے کی سازش کا حصہ ہے۔ بعد میں کرناٹک ہائی کورٹ نے اس تعلق سے حکم دیا تھا ۔ یوپی میں جس طرح کی سازشیں ہو رہی ہیں ، اسے دکھانے والے تمام حقائق اور دستاویزات ہم نے عدالت کو دستیاب کرائے ہیں۔
یوگی نے مزید کہا ، ’کیا ہم میرٹھ کے اس واقعہ کو بھول سکتے ہیں جس میں ایک عبدللہ نے خود کو امت بتا کر ایک ہندو خاتون سے شادی کی۔ بعدمیں اس نے اس کی جائیداد لے لی اور اسے اور اس کی بیٹی کو مار ڈالا۔‘










