امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی شب ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت الاخوان المسلمون تنظیم کے کچھ ذیلی اداروں کو "غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں” قرار دینے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
اس ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ "یہ حکم اس عمل کی شروعات کرتا ہے جس کے تحت الاخوان المسلمون کی بعض شاخوں یا ذیلی اداروں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جائے گا”۔ اس میں خاص طور پر لبنان، مصر اور اردن میں الاخوان المسلمون کی شاخوں کا ذکر کیا گیا ہےٹرمپ کا یہ فیصلہ تنظیم کے عالمی ڈھانچے پر نہیں بلکہ صرف اس کی شاخوں پر لاگو ہو گا۔مزید بتایا گیا کہ امریکہ کے صدر کے نزدیک لبنان، اردن اور مصر میں الاخوان المسلمون کی شاخیں تشدد کی حمایت کرتی ہیں اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔
سابق ریپبلکن رکنِ کانگریس ڈیوڈ رمضان (ورجینیا) نے العربیہ/الحدث سے گفتگو میں کہا کہ یہ فیصلہ الاخوان المسلمون پر بڑا اثر ڈالے گا … اور دنیا بھر میں "سوئفٹ” کے نظام کے تحت کام کرنے والے بینکوں کو مجبور کرے گا کہ وہ تنظیم کے افراد یا اداروں سے مالی لین دین روک دیں۔ڈیوڈ کے مطابق اس کے بعد الاخوان المسلمون کو ایسے متبادل طریقے تلاش کرنا ہوں گے جن میں نقد رقم یا ثالثی ذرائع کا استعمال شامل ہو سکتا ہے۔دوسری جانب مصر کی ریاستی سلامتی کے ادارے میں الاخوان کے امور کے سابق ذمہ دار میجر جنرل عادل عزب نے کہا کہ یہ تنظیم غزہ کی مدد کے نام پر عطیات جمع کرتی ہے، جو راست تنظیم کے خزانوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مصر پہلے ہی الاخوان المسلمون کو "دہشت گرد تنظیم” قرار دے چکا ہے اور اسے 2013 میں سیاسی منظرنامے سے باہر کر دیا گیا تھا۔ کئی ممالک میں اس تنظیم پر پابندی عائد ہے جن میں سعودی عرب اور اردن شامل ہیں۔
اپریل 2025 میں اردن نے الاخوان المسلمون کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم کے دفاتر بند کر دیے گئے اور اثاثے ضبط کر لیے گئے۔ تنظیم پر اسلحہ رکھنے، دھماکا خیز مواد و راکٹ بنانے کی کوشش کرنے اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی جیسے الزامات عائد کیے گئے۔مئی 2025 میں فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے بھی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ملک میں الاخوان المسلمون کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تجاویز تیار کرے، کیونکہ مختلف رپورٹس میں خبردار کیا گیا تھا کہ یہ تنظیم فرانسیسی قومی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔








