سعودی عرب نے ملک میں غیر ملکیوں کو شراب کی فروخت پر عائدپابندیوں میں نرمی کر دی ہے۔
گذشتہ برس سعودی حکومت نے ملک کے دارالحکومت ریاض میں ایک شراب خانہ کھولا تھا، جہاں صرف غیرملکی سفارت کاروں کو شراب کی فروخت کی اجازت تھی تاہم متعدد متعدد خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی حکومت میں اب دیگر غیر مسلم غیر ملکیوں کو بھی شراب کی فروخت کی جا رہی ہے۔یاد رہے سعودی عرب میں 73 برس تک شراب پر مکمل پابندی عائد رہی تاہم گذشتہ برس ریاض میں شراب خانہ کھلنے کے بعد اس پابندی میں نرمی برتنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔
نیوز ویب سائٹ سیمافور کے مطابق ریاض میں گذشتہ برس کھلنے والے سٹور نے اب سفارت کاروں کے علاوہ پریمیم ریزیڈنسی پروگرام کے تحت دیگر غیر مسلم غیرملکی شہریوں کو بھی شراب کی فروخت شروع کر دی ہے۔سعودی عرب میں موجود ایک غیرملکی شہری نے بلومبرگ کو بتایا کہ انھوں نے حال ہی میں ریاض میں واقع شراب خانے سے شراب خریدی تھی۔سعودی حکومت نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تاہم گذشتہ برس سعودی حکام نے کہا تھا کہ ریاض میں واقع دکان سے شراب کی فروخت صرف مملکت میں مقیم اس سفارتی عملے تک ہی محدود ہو گی، جو گذشتہ کئی دہائیوں سے سفارتی پاؤچز کے نام سے سیل بند سرکاری پارسلوں میں اپنے ممالک سے پینے کے لیے شراب سعودی عرب منگواتے ہیں۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ شراب کی فروخت کی یہ دکان کھولنے کا مقصد ’شراب کے غیرقانونی کاروبار‘ کا قلعہ قمع کرنا ہے۔
سعودی عرب میں دو نئے شراب خانے کھولنے کی منصوبہ بندیدوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب ظہران اور جدہ میں بھی دو نئے شراب خانے کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ ایک نیا شراب خانہ ظہران میں واقع آرامکو کے کمپاؤنڈ میں کمپنی میں کام کرنے والے غیر مسلم ملازمین کے لیے بنایا جائے گا اور اس حوالے سے سعودی حکام نے انھیں آگاہ کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نئے شراب خانوں کی سنہ 2026 میں کھلنے کی توقع ہے۔
ماہرین کی جانب سے سعودی حکومت کے اس اقدام کو ولی عہد محمد بن سلمان کے ’وژن 2030‘ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد سعودی معاشرے کو کسی حد تک لبرل کرنا ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد متعدد تبدیلیاں آئی ہیں اور سعودی مملکت میں شراب خانہ کھولنے کے عمل کو اُن ہی کے ایجنڈے کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے
یہ سوال ہمیشہ کیا جاتا ہے کہ میوزک کنسرٹ،سنیما ہال کھولنے اور شراب پر عائد پابندیاں نرم کرنے جیسے خادمین حرمین شریفین کے اقدامات پر آخر ہندستانی علما خاموش کیوں رہتے ہیں ،اج تک سعودی عرب کے یہاں اکثر حاضری دینے والے بھی چپ شاہ کا روزہ رکھ لیتے ہیں








