گستاخی معاف:قاسم سید
قابل احترام بزرگ مسلم رہنما مولانا ارشد مدنی کے بے باکانہ بیان کی گھن گرج ابھی ختم نہیں ہوئ تھی کہ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کے بھوپال میں دیے گیے بیان کی گونج سے پورے ملک کےکان کھڑے ہوگئے ـ میڈیا ان کے پیچھے پڑگیا ،منفی پروپیگنڈہ اب بھی جاری ہے ـ ایک حلقہ ٹائمنگ کو لے کر اپنے تحفظات کا اظہار کررہا ہے مگر ایسے لوگ بڑی تعداد میں ہیں جو اسے مسلمانوں پر لگاتار پریشر کو کم کرنے کا موثر بیانیہ سمجھ ر ہے ہیـں ـ کوئی اسے باہمی بالادستی کی جنگ سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے ـ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ نیت خواہ کچھ ہو اس بیانیہ سے ہر فریق کو ظالم ہو یا مظلوم فایدہ ہوا ہے ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسی محترم شخصیت یہ باتیں کر رہی ہے جس کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے( جس سے اتفاق کرنا ضروری نہیں) وہ ریاستی بیانیے کے قریب سمجھی جاتی ہے، عدلیہ پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کرتی رہی ہے ۔ اس اچانک تبدیلی میں اصل کہانی کیا ہے؟ اس پر تحقیق کرنے والوں کی بجائے ستائش کرنے والوں کی آواز زیادہ بلند اور طاقتور ہے، چوڑیاں کسے جانے والوں کو اس کی بہت ضروت تھی ،حق گوئی ،اور جرات بھرے بیانیہ کی ـ اس سے اعتماد کے جلتے بجھتے چراغوں کو بھی روشنی ملی اور شکستہ حوصلوں کو نئی پرواز
بلاشبہ پچھلے چند برسوں میں بوجوہ مسلم عوام کے اندر ایک واضح بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ عدالتوں کے فیصلے ان کے حق میں نہیں آئے، ہجومی تشدد سے لے کر سی اے اے ،اوقاف تک ہر مسئلے نے یہ احساس گہرا کیا کہ انصاف کا راستہ کتنا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں قیادت کے ایک طبقہ کی نرم زبان اور ریاستی اعتماد پر مبنی بیانات نئی نسل کو خاص طور سے ان سے مزید دور لے گئے ہیں ۔ بداعتمادی کی فضا میں گھٹن بڑھتی جارہی ہے ـ اتفاق سے مولانا محمود مدنی کی شخصیت بھی اسی تاثر کی زد میں رہی ہے کہ وہ مقتدرہ کے قریب رہ کر مصلحت کو حکمت سمجھنے والی لائن پر ہیں۔ اس پس منظر میں بھوپال میں ادا الفاظ محض تقریری جملے نہیں، بلکہ اس بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کا جواب بھی ہیں جو اب مذہبی قیادت سے صرف دعائیں، تسلیاں، ہاتھوں پر بوسے،کھوکھلے نعرے ،جوش بیاں اور آگ اگلتی خطابت کے جوہر نہیں بلکہ صاف موقف اور مزاحمت کی اخلاقی وجمہوری بنیادیں مانگتا ہے۔ جہاں تک میڈیا کا سوال ہے مین اسٹریم میڈیا کا شور predictable تھا۔ اس ملک میں اگر ایک ہندو یا مسلمان ظلم کے خلاف بات بھی کر دے تو اسے شدت پسند،انتہا پسند قرار دینے میں میڈیا ایک لمحہ نہیں لگاتا۔ ان کا بھی میڈیا 4ٹرائل چل رہا ہے ـ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پہلی بار مدنی صاحب اس ہائپ کے باوجودفی الحال پیچھے ہٹتے نظر نہیں آرہے ہیں اور مضبوطی کے ساتھ موقف پر قائم ہیں ـ ان کے انٹرویوز دیکھ کر تو یہی اندازہ ہوا ۔ گویا ان پر ’’نرم مزاج، حکومتی لائن کے قریب‘‘ ہونے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن اصل امتحان ان الفاظ کی پائیداری اور پاسداری کا ہے ،اعتماد کے بحران اور یقین کے ٹوٹے پل کی یافت کا ہے۔ یہ جملے جرات مندانہ ہیں، مگر جرات کو جواز اسی وقت ملتا ہے جب وہ مستقل مزاجی کے ساتھ کھڑی رہے۔ اگر یہ صرف لمحاتی اضطراب یا امیج کی صفائی کا ایک منظر ہے (جو کہ نہیں ہے )تو اس کا نقصان پورے طبقے کو ہوگا، کیونکہ پھر مسلمانوں کے اندر قیادت پر عدم اعتماد کا خلا مزید بڑھ جائے گا۔ہمیں شک کا فایدہ مولانا مدنی کو ضرور دینا چاہیے بلاشبہ وہ ،ازادی کے بعد پیدا نئی نسل کے ان قائدین میں سے ہیں جن میں تازگی نظر آتی ہے ،مذہبی قیادت میں وہ سلجھے اور رسک لینے والے ہیں ـ اگر ان سے متعلق تحفظات دور ہو جائیں تو ان سے بہترین قائد نہیں ہوسکتا ان کی جملہ خصوصیات دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں ـ ـ یہ بیان اس سمت میں فیصلہ کن قدم بن سکتا ہے
فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان جملوں نے ایک سیاسی اور ذہنی کھڑکی کھولی ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو مذہبی فریم میں جائز قرار دیا، عدالتوں پر تعمیری تنقید کو اخلاقی حیثیت دی، اور مسلمانوں میں اعتماد کی لہر پیدا کی ـ کم از کم زبان کا خوف ٹوٹا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ زبان کسی نہج کو جنم دیتی ہے یا مصلحت کے دباؤ میں پرانی پوزیشن پر واپس ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اگر یہ تبدیلی حقیقی ہے تو مسلم قیادت کے نئے باب کی تشکیل شروع ہو چکی ہے، اگر نہیں تو یہ بیان ایک اچھی خبر نہیں بلکہ ایک کھویا ہوا موقع بن کر رہ جائے گا بڑی دینی قیادت کا ظلم کے خلاف بولنا ’’نفسیاتی حوصلہ‘‘ دیتا ہے۔ آخری سوال وہی ہے جو پہلے تھا کہ یہ بیانیہ امیج ریسکیو ہے یا اصولی موقف جس پر وہ ڈٹے رہیں گے ؟ ہمیں کسی کی نیت پر سوال اٹھانے ،اندرون میں جھانکنے،دل کا حال پڑھنے اور اس پر فتویٰ دینے کا کوئی حق نہیں ـ کوئی ایک بار سچے من سے آواز تو لگائے مضطرب، ،پریشان کمیونٹی دوڑی چلی آئے گی ، مولانا محمود مدنی کسوٹی کی صلیب پر ہیں ـ کیا وہ پل صراط پار کر جائیں گے؟











