اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا تارکین وطن کی شناخت کے لیے ریاست بھر میں "گھر گھر سروے” شروع کیا ہے۔ ان افراد کی شناخت کرکے انہیں حراستی مراکز میں رکھنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس کی تصدیق جھانسی رینج کے آئی جی آکاش کلہاری، آگرہ کے ڈی سی پی سید علی عباس، اور لکھنؤ کی میئر سشما کھڑکوال سمیت کئی سینئر افسران نے کی ہے۔ستیہ ہندی نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے
رپورٹ کے مطابق یہ مہم 22 نومبر کو جاری ایک سرکاری حکم نامے کے تحت چلائی جا رہی ہے۔ جھانسی رینج کے آئی جی آکاش کلہاری نے کہا، "حکم کے مطابق جھانسی میں ایک حراستی مرکز بھی قائم کیا جائے گا۔ للت پور، جھانسی، اور جالون (بندیل کھنڈ خطہ) میں رہنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے ملک واپس بھیجنے تک یہاں رکھا جائے گا۔”
آگرہ میں ڈی سی پی سید علی عباس نے انکشاف کیا کہ تقریباً 3000 غیر قانونی تارکین وطن صرف میونسپل کارپوریشن میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "مقامی انٹیلی جنس یونٹ کی ٹیموں کے ساتھ گھر گھر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کے مجرمانہ ریکارڈ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ ایسے افراد کئی نجی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں میں بھی کام کر رہے ہیں۔”
رپورٹ کے مطابق لکھنؤ کی میئر سشما کھڑکوال نے دعویٰ کیا کہ میونسپل صفائی کارکنوں میں بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی اور روہنگیا کارکنان شامل ہیں۔ اس نے کہا، "کچھ ہفتے پہلے، میں نے تلاشی مہم شروع کی اور 50 خاندانوں کو ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کیا۔ بعد میں جب تلاش میں شدت آئی تو 160 صفائی کارکن فرار ہو گئے۔ وہ اپنے شناختی کارڈ اور دستاویزات جمع نہیں کروانا چاہتے تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ روہنگیا تھے اور انہوں نے جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے آدھار کارڈ حاصل کیے تھے۔”
محکمہ کے ذرائع کے مطابق، دو سال قبل ایک انٹیلی جنس پر مبنی سروے میں ریاست میں تقریباً 10 لاکھ غیر قانونی غیر ملکیوں کا پتہ چلا، جن میں لکھنؤ اور آگرہ کے 6000 شامل تھے۔ شناخت کی دشواریوں کی وجہ سے اس وقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اب گھر گھر سروے کے بہتر نتائج کی توقع ہے۔ذرائع نے بتایا کہ خالی سرکاری عمارتوں، کمیونٹی سینٹرز اور پولیس اسٹیشنوں کو حراستی مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ شناخت شدہ افراد کی فہرستیں متعلقہ ڈویژنل کمشنرز اور آئی جیز کو پیش کی جائیں گی۔ انتظامیہ کا مقصد مارچ 2026 تک اس مہم کو مکمل کرنا ہے۔
واضح رہے کہ یوپی میں آئی لو محمد کے دوران بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوئیں۔ اس وقت بھی ہندوتو تنظیموں نے اسے غیر قانونی بنگلہ دیشیوں سے جوڑ دیا تھا۔ ستمبر-اکتوبر 2025 میں اتر پردیش میں ‘آئی لو محمد’ مہم کے دوران ریاستی سطح پر 16 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئیں اور 1000 سے زیادہ مسلم نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق بھارت بھر میں اس مہم سے متعلق مقدمات میں 4500 سے زائد افراد کو ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کیا گیا، جس میں سب سے زیادہ حصہ اتر پردیش کا تھا۔اس وقت (6 دسمبر 2025 تک) بہت سے نوجوان اب بھی مختلف جیلوں میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔








