نئی دہلی:(آر کے بیورو)مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ، معروف لیڈر اور دہلی فساد کیس کے کلیدی ملزم عمر خالد کے والد ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "عمر خالد اور ان کا ہریوار دونوں پر امید تھے، فیصلہ آگیا ، لیکن ہم لڑیں گے، ہمارے پاس موجود تمام آپشنز استعمال کریں گے۔” بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ فیصلہ سے افسوس تو ہوا مگر حوصلہ قائم ہے
واضح رہے کہ عمر خالد غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔ ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمہ دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت میں ابھی بھی زیر التوا ہے۔ مقدمے کی سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی۔
اس معاملے میں ان کی ضمانت کی درخواست دو بار نچلی عدالت، دو بار دہلی ہائی کورٹ اور اب سپریم کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔
ایس کیو آر الیاس کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے کبھی بھی لوگوں کو تشدد یا۔ دہشت گردی پر اکسایا نہیں۔
وہ بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں، "اگر عمر کا ‘قصور’ کچھ ہے تو وہ یہ ہے کہ وہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کا چہرہ تھے۔ لہذا اگر حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنا جرم ہے، تو عمر نے وہ جرم کیا ہے۔”ان کا کہنا ہے کہ یو اے پی اے کے تحت ضمانت ملنا بہت مشکل ہے۔ڈاکٹر الیاس نے ایک جواب میں بتایا، "عام جرائم میں،آپ کو مجرم ثابت ہونے تک بے قصور سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، UAPA کے تحت، اس کے برعکس ہے۔”انہوں نے پوچھا، "جب آپ 10-15 سال کے بعد بے قصور پائے جائیں گے تو کس کا احتساب ہوگا؟ کسی کا احتساب نہیں کیا جائے گا۔”
"عمر خالد دہلی میں بھی نہیں تھے"۔
نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک یہ کہا گیا ہے کہ عمر خالد کے خلاف دہشت گردی کا پہلا مقدمہ بنتا ہے۔
ان کے والد نے کہا کہ ہم جو باتیں پچھلے پانچ سال سے سن رہے ہیں وہ سپریم کورٹ میں دوبارہ دہرائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ جب فسادات ہوئے تو عمر خالد دہلی میں نہیں تھے۔ مزید یہ کہ اس نے واٹس ایپ پر کوئی اشتعال انگیز پیغامات نہیں بھیجے اور نہ ہی اس نے اپنی تقریروں میں لوگوں کو تشدد پر اکسایا۔دہلی پولیس نے عمر خالد کے خلاف کچھ "محفوظ گواہوں” کا حوالہ دیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس نے فسادات بھڑکانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جو کہتے ہیں گولی مارو’، جنہوں نے کہا تھا کہ پولیس کو ہٹا دو، ہم دیکھ لیں گے، وہ لوگ آج وزیر ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے کے بعد عمر خالد کو کم از کم ایک سال کے لیے ضمانت ملنے کی امید کم ہے۔ان کے والد کا کہنا ہے کہ "جس طرح ناس نے ساڑھے پانچ سال جیل میں گزارے، اسی طرح وہ مزید ایک سال بھی جیل میں ہی رہے گا۔ اس کے بعد بھی یہ یقینی نہیں ہے کہ اسے ضمانت مل جائے گی۔ یہ پانچ سال بہت مشکل سے گزرے ہیں، اور باقی وقت بھی اسی طرح گزرے گا”۔
نیو یارک کے مئیر ممدانی کے عمر خالد کی حمایت میں خط لکھنے کے تنازع پر ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ہم نے اس معاملے کو بین الاقوامی نہیں کیا، حکومت اور عدالتوں کے فیصلوں نے اسے بین الاقوامی کر دیا ہے۔انہوں نے نوم چومسکی جیسے دانشوروں کا حوالہ دیا جنہوں نے عمر خالد کی حمایت کی۔انہوں نے کہا، "میں نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا، میں جہاں بھی گیا، لوگ عمر کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔”








