خراج عقیدت: اے یو آصف
9891225971۔
تحریک اسلامی کے حلقہ میں تحریکی صحافت بہت اجنبی اور غیرمعروف اصطلاح نہیں ہے۔ اس سے مراد ایک ایسی صحافت ہے جو کہ بامقصد اور تعمیری ہو۔ بر صغیر میں سب سے پہلے 1920ء کی دہائی کے اوائل سے مدینہ بجنور، مسلم اور الجمیعة جیسے اخبارات اور پھر آئندہ دہائی میں ترجمان القرآن،کوثر اورالفرقان جیسے رسالوں میں سید ابوالاعلیٰ مودودی ، منظور نعمانی، ملک نصراللہ خاں عزیز اور مسعود عالم ندوی ودیگر کی تحریروں کے ذریعے اس کی جھلک کم وبیش دیکھنے کو ملتی ہے۔ تقسیم وطن سے عین قبل ابو سلیم عبدالحئی کے ماہنامہ الحسنات ، محمد یوسف کے الانصاف اورسید حامد علی کی ماہنامہ زندگی سے اس رجحان کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ تقسیم وطن کے فوراً بعد الانصاف کی آبیاری انوار علی خاں سوز اور اصغرعلی عابدی کرتے رہے، تو زندگی کو اس کے بانی سید حامد علی لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ پھر فوراً ہی دہلی منتقل ہوتے وقت تکنیکی اسباب کی بنا پر الانصاف کانام دعوت ہوجاتا ہے اور تب سے جماعت اسلامی ہند کے چند افراد پرمشتمل ایک ٹرسٹ کے ذریعے یہ مستقل نکل رہا ہے۔ دعوت کے نشو و نما میں ایڈیٹر اصغرعلی عابدی کا کردار سب سے اہم ہے اورقابل ذکرہے۔ دعوت سہ روزہ ہو یا ہفت روزہ، اس کا مستقل کالم ”خبر ونظر” انہی کا شروع کیا ہواہے جسے ان کے بعد محمد مسلم، محفوظ الرحمن ، سلمان ندوی اورعبدالحق پرواز رحمانی نے مستقل برقرار رکھا۔ کسی بھی زبان کی صحافت کی تاریخ میں75برس سے زائد عرصہ سے جاری مخصوص کالم کا یہ شائد انوکھاتجربہ ہے۔

مذکورہ بالا پانچوں ایڈیٹروں نے اپنے اپنے انداز سے اسے پرکشش بنائے رکھا۔ ان تمام میں محمد مسلم کے دور میں ‘خبر و نظر’ کے اس کالم کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل رہی ہے۔ ویسے تحریکی رنگ اس کالم میں پہلے ایڈیٹر اصغرعلی عابدی، اور پانچویں ایڈیٹر پرواز رحمانی کے یہاں سب سے زیادہ غالب رہا۔ گرچہ محفوظ الرحمن کو چھوڑ کر باقی تمام ایڈیٹران جماعت کے ارکان رہے۔ یوں تو 7جولائی 2019 کو پرواز رحمانی کی ادارت میں سہ روزہ دعوت کے بند ہونے کے بعد ہفت روزہ میں یہ کالم جاری رہا مگر پالیسی کے اعتبار سے صرف اسی کالم میں ہی نہیں بلکہ پورے اخبار میں تحریکی رنگ عنقاء ہونے لگا۔
اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ 5جنوری 2026ء کو 77ویں برس سے زائد عمر میں اوکھلا نئی دہلی کے معروف ہاسپٹل الشفاء کے آئی سی یو میں ایک ماہ سے زیر علاج مفلوج پرواز رحمانی کی وفات کی خبر کے ساتھ تحریکی صحافت ایک بار پھر موضوع بحث بن گئی ہے۔ ان کا ‘ خبر و نظر’ ہو یا عام تحریر اور ان کے دور میں پورا سہ روزہ اخبار ہو یا 40 سے زائد موضوعات پر خصوصی شمارے اس رنگ میں سبھی رنگے ہوتے تھے۔ تبھی تو معروف ناقد قلم کار اور اسکالر ڈاکٹر حسن رضا ان کی وفات پر اپنے تاثرات میں بے ساختہ کہہ پڑتے ہیں ، ”پرواز صاحب مرحوم کا اسلوب ایک پختہ تحریکی صحافی کا تھا۔ اب پرواز صاحب مرحوم ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پرواز رحمانی صاحب مرحوم کی صحافت کا ایک تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ یہی ان کیلئے سچی عقیدت کا اظہار ہوگا۔ یہ اہم نکتہ تو ڈاکٹر حسن رضا نے بروقت اٹھایا ہے مگر میرے خیال میں اصل مسئلہ صرف سچی عقیدت کے اظہارکا نہیں بلکہ تحریکی صحافت کے تصور کو تسلیم کرنے اورفروغ دینے کا ہے۔ اس سلسلے میں خود پرواز رحمانی کا زبردست کردار رہاہے۔ آئیے ، اب ذرا جائزہ لیں کہ کون تھے پرواز رحمانی اور اس سلسلے میں کیا تھا ان کا کردار8جون 1948 کو ریاست مہاراشٹر میں ضلع اکولا کے آکوٹ قصبہ میں ایک پرہیزگار و متقی عبدالرحمن کے گھر پیدا ہوئے۔ عبدالحق جو پرواز رحمانی کے نام سے معروف ہوئے۔ پانچ بھائیوں میں چوتھے نمبر پرتھے۔ اب صرف 75سالہ ایک بھائی محب الحق رحمانی باحیات ہیں۔ جب پرواز رحمانی کی شدید علالت کی آکوٹ میں خبر ملی تو وہ بے چین ہو اٹھے اور اپنے جوان بیٹے تقی الرحمانی کو لے کر دہلی کا رخت سفرکیا۔ نئی دہلی ریلوے جنکشن پر پہونچتے ہی پلیٹ فارم پر چلتے ہوئے گر پڑے۔ پیشانی میں زبردست چوٹ آئی، لہولہان ہوگئے۔فرسٹ ایڈ کے بعد بیٹے تقی انہیں اسی الشفاء ہاسپٹل میں لے آئے جہاں ان کے برادر محترم سیمی کوما کی حالت میں صاحب فراش تھے۔ مزید علاج معالجہ ہوا۔ پھر تین چار روز اپنے بھائی کے گھر رہ کر اور انہیں آخری سلام کہہ کر اپنے وطن واپس لوٹ گئے اور انہیں یکطرفہ ملاقات کا درد دل میں رہ گیا۔ ان کے جانے کے بعد پرواز رحمانی کی اہلیہ، دونوں بیٹیاں اور داماد نیز نواسے نواسی الشفاء ہاسپٹل جاکر ان کی خیر وعافیت لیتے رہے تآنکہ 5جنوری 2026ء کی شب9:30بجے انہوں نے آخری سانس لی اور اپنے اہل وعیال ودیگر متعلقین کو ہی نہیں بلکہ اپنے محبوب قارئین کو اپنے پیچھے چھوڑگئے۔ ان کے متعلقین میں ان کا یہ بدنصیب صحافی رفیق بھی شامل تھا جوکہ 19دسمبر 2025کو ان کا آخری دیدار کرکے22دنوں کے سفر پراپنی دو بیٹیوں کے یہاں بنگلورو آگیا تھا۔
پرواز رحمانی کی ابتدائی تعلیم وتربیت آکوٹ ہی میں ہوئی۔ میٹرک تک کی تعلیم کے بعد راہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی، (اترپردیش) سے 1983ئ میں اردو صحافت میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کیا۔ یہ اردو ، ہندی اور انگریزی کے علاوہ عربی ، فارسی اورمراٹھی سے بھی واقف تھے۔ 1965ئ میں جماعت اسلامی ہند سے17 برس کی عمر میں تعلق پیدا ہوگیاتھا۔ 1968ئ میں نوجوانوں کی ایک تنظیم ‘انجمن تعمیر کردار’، بنالی اور اس کے ذریعے علاقے کے نوجوانوں کی ایک قابل ذکر تعدادکو جوڑا۔1965ء میں جماعت اسلامی ہند سے17برس کی عمر ہی میں تعلق پیدا ہوگیاتھا۔ جماعت سے قربت کا سبب جماعت مخالف افراد کے لٹریچر اور تقاریر و گفتگو بنا۔ ان سب نے انہیں جماعت کے لٹریچر کو خود سے پڑھنے کی ترغیب دی اور انہیں جماعت کا ہم نوا بنادیا۔1985ء میں جماعت کے باضابطہ رکن بن گئے۔
پرواز رحمانی کا کل ملاکر63برس صحافت سے تعلق رہا۔ ان میں14برس کم عمری ہی سے مضامین اور کہانیاں رکھنے کا ذوق پیدا ہوگیاتھا اور اشعار بھی کہنے لگے تھے۔ 1962ء سے ان کی کہانیاں اردو ٹائمز ممبئی میں اور ‘غنچہ’ میں شائع ہونی شروع ہوگئی تھیں۔ اولین امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی کی ایمائ پر1969میں مرکز جماعت چتلی قبر دہلی آگئے تھے اورپھر ان کی ہدایت پر سہ روزہ دعوت جوائن کیا۔1969ئ سے1989ء تک معاون مدیر اور1989ء سے 2009ئ تک مدیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ریٹائرمنٹ کی عمر کے آجانے پران کی زبردست فنی، فکری وتحریکی صلاحیت کے عتراف میں انہیں مدیر اعلیٰ بنادیاگیا۔ یہ اس اخبار میں پہلا تجربہ تھا۔ سابق مدیران اصغرعلی عابدی ، محمد مسلم اور سلمان ندوی کی مانند ان کی بھی جماعت سے باضابطہ وابستگی رہی۔ مؤخر الذکر دونوں شخصیات کی طرح یہ بھی جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے اور متعدد علمی تعلیمی اور معاشرتی انجمنوں سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیںیہ ہندی میں دعوتی کتابوں کے ادارے مدھر سندیش سنگم اور الفلاح سوسائٹی دہلی کے بھی چیرمین کے طورپر سرگرم تھے۔ یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ الفلاح تحریک اسلامی کے تعلق سے تاریخی تجربہ گاہ دارالاسلام پٹھان کوٹ (پنجاب) ہنوز محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ یہ اسلامی ساہتیہ ٹرسٹ دہلی کے ٹرسٹی اور پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی تھے۔
سہ روزہ دعوت سے اپنی 57سالہ وابستگی کے دوران انہوں نے ہزاروں کالم اور40سے زائد خصوصی شمارے نکالے۔ ان شماروں میں1991ء میں جماعت اسلامی کے 50سال پورا ہونے اور2009میں جماعت اسلامی ہند کے60برس پر تاریخی دستاویز شامل ہیں۔ ان دونوں میں انہوں نے انگریزی اخبارات سے وابستہ راقم الحروف سے بھی پور تعاون لیا۔ ان دونوں میں تحریک اسلامی کی تاریخ کے تعلق سے بڑے ہی قیمتی مواد موجود ہیں۔ پرواز رحمانی کی صحافت کے تحریکی رخ کو سمجھنے کیلئے یہاں سہ روزہ دعوت کے ‘ خبر و نظر’ کے تحت”ایک بدھ دانشور کی باتیں” اور آر ایس ایس کے سابق سرسنگھ چالک کے ایس سدرشن کی وفات کے بعد لکھے گئے تاثراتی مضمون کے حوالے دیئے جاسکتے ہیں۔ اس زمانے میں یہ دونوں تحریریں بہت مقبول ہوئی تھیں۔ بدھ دانشورلاما دوبوم تولکو نے خود اس کالم کی پذیرائی کی تھی۔
پرواز رحمانی کی صحافتی مقبولیت اور معیار کا یہ حال تھا کہ خود اٹل بہاری واجپئی بھی اس کے معترف تھے۔ وزارت عظمیٰ کے دور میں ایک بار انہوں نے اپنے سکریٹری سے مسلم ایشوز پر اظہار خیال کیلئے کسی معروف اردو اخبار سے انٹرویو دینے کی خواہش کی تو جب ان کے پاس متعدد اخبارات کی فہرست پیش کی گئی تو انہوں نے برجستہ سہ روزہ دعوت کے مدیراعلیٰ پرواز رحمانی کا نام لیا اورکہاکہ فہرست میں اس اخباراوراس کے ایڈیٹرپروازرحمانی کا نام کیوں نہیں ہے اور پھر جب پروازرحمانی تک سودھندرکلکرنی پروازصاحب کے پاس واجپئی جی کی یہ فرمائش لے کر گئے تو ابتدامیں انہیں کچھ تکلف ہوا ،لیکن واجپئی جی کی خواہش کے احترام میں انہوں نے کافی لمباانٹرویودیا اور انٹرویو شائع ہونے پر اس سے بہت مطمئن بھی ہوئے۔ اس واقعہ سے پرواز رحمانی کی معیاری صحافت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پرواز رحمانی آج ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی معیاری تحریکی صحافت ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ اس کیلئے ہمیشہ یاد کئے جاتے رہیں گے۔








