: چھتیس گڑھ کے گڑیابند ضلع کے دتکیا گاؤں میں اتوار کی شام اس وقت تشدد پھوٹ پڑا، جب ایک ہجوم نے مبینہ طور پر اقلیتی برادری کے لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دی۔ بتایا گیا کہ اس دوران پولیس کی ایک ٹیم نے کئی بچوں سمیت 20 افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ اس واقعہ میں سات پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، دتکیا گاؤں میں دنگے کی شروعات اتوار کی صبح ہونے والے واقعات سے ہوئی، جب چار مختلف مقامات پر مبینہ طور پر چار افراد پر حملہ کیا گیا اور دو لوگوں کے موبائل فون لوٹ لیے گئے۔ان واقعات کے تین ملزمین کی شناخت دتکیا گاؤں کے عارف خان (18) ، سلیم خان (23) اور عمران صدیقی (18) ساکن رائے پور کے طور پر کی گئی ہے۔اس کے بعد، اسی دن شام 4 بجے سے 11.30 بجے کے درمیان درجنوں گاؤں والوں نے مبینہ طور پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے چھ گھروں پر حملہ کیا
دی ہندو The hindu کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے بتایا کہ سینکڑوں افرادکے ہجوم سے خواتین اور بچوں سمیت دو درجن سے زیادہ لوگوں کو کئی گھنٹوں تک بچانے کی کوشش کرتے ہوئے کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوگیےـ پولیس کے مطابق، فرقہ وارانہ تصادم ان واقعات کے سلسلے کا نتیجہ تھا جو چند گھنٹے قبل شروع ہوا تھا جب تین افراد نے جن میں سے ایک مندر میں توڑ پھوڑ کے معاملے میں ضمانت پر باہر تھا نے مبینہ طور پر مقامی لوگوں پر حملہ کیا۔
گڑیابند کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ویدورت سرمور نے سوموار (2 فروری) کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ دتکیا کے رہنے والے عارف خان کو 2024 میں مانا جوینائل ریفارم ہوم میں اس وقت رکھا گیا تھا، جب اس پر اور دو دیگر افراد پر گاؤں کے چویشور شیو مندر میں توڑ پھوڑ کا الزام لگاتھاـ اخبار کے مطابق، ایک اور اہلکار نے بتایا کہ خان، جو اب 18 سال کے ہیں، کو اسی سال ضمانت مل گئی تھی، لیکن وہ اتوار (1 فروری) کی صبح تک گاؤں واپس نہیں لوتا تھا، جب اس نے اور رائے پور کے اس کے دو ساتھیوں نے مبینہ طور پر چار افراد پر حملہ کیا، جس میں توڑ پھوڑ معاملےکا ایک عینی شاہد بھی شامل تھا
اگرچہ پولیس نے خان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف چار مقدمات درج کیے اور گاؤں والوں کو یقین دلایا کہ اسے گرفتار کر لیا جائے گا، لیکن ایک ہجوم نے گاؤں میں خان کے گھر میں توڑ پھوڑ کر دی۔ اس کے بعد پولیس کی ایک ٹیم کو گاؤں بھیجا گیا، جس کے بعد پولیس نے گاؤں والوں کو مزید اشتعال انگیز کارروائیوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا لیکن امن زیادہ دیر قائم نہیں رہا۔ جلد ہی، دتکیا اور آس پاس کے دیہاتوں سے سینکڑوں لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جائے وقوعہ پر جمع ہو گیا۔ لاٹھیوں، اینٹوں، پتھروں اور مٹی کے تیل کی بوتلوں سے لیس، انہوں نے مبینہ طور پر 10 مسلم خاندانوں کے گھروں میں گھسنے کی کوشش کی، جنہوں نے جان بچانے کے لیے خود کو اپنے اپنے گھروں میں بند کرلیا تھا
ایک پولیس افسر نے کہا،’ہجوم نے گاڑیوں کو آگ لگا دی اور مسلمانوں کے گھروں میں جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ ہم نہ صرف تعداد میں کم تھے، بلکہ صوبے میں راجم کمبھ کی وجہ سے پولیس فورس کی بھی کمی تھی۔ اگلے چند گھنٹوں تک ہم ڈٹے رہے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ہجوم گھرنہ میں گھسے اور خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے
جب پولیس پہرہ دے رہی تھی، ہجوم نے پتھر پھینکے اور قریبی گھروں میں گھسنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن پولیس ٹیموں نے انہیں روکے رکھا، جب تک کہ رات 9 بجے کے قریب دو قسطوں میں اضافی فورس نہ پہنچ گئی ـ اہلکار
نے کہا،’ہجوم کو پرسکون کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ ہم نے پھنسے ہوئے متاثرین کو اکٹھا کیا اور انہیں نکالنا شروع کیا
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ڈیوٹی پر موجود پولیس فورس پر حملہ کرنے اور انہیں زخمی کرنے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا
دریں اثنا، ریاستی کابینہ کے وزیر دیال داس بگھیل نے واقعہ کو دو کمیونٹی کے درمیان پرانے تنازعہ سے پیدا ہونے والا تصادم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘اب سب کچھ قابو میں ے (دی وائر)







