اسلام آباد/کابل: امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کے بعد ایک جانب پاکستان سفارتی محاذ پر سرگرم دکھائی دے رہا ہے، تو دوسری جانب پاک۔افغان سرحد پر کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے۔ طالبان حکومت نے پاکستان پر مشرقی افغانستان میں مبینہ "ڈبل ٹیپ” حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جن میں درجنوں شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ کارروائی دہشت گردوں کے خلاف کی گئی۔
‘ڈبل ٹیپ’ حملہ کیا ہوتا ہے؟
"ڈبل ٹیپ” ایک فوجی اصطلاح ہے، جس میں پہلے حملے کے کچھ ہی دیر بعد اسی مقام پر دوسرا حملہ کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس دوران اکثر امدادی کارکن، طبی عملہ اور دیگر افراد جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، اسی لیے اس حکمتِ عملی کو انتہائی متنازع اور شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستانی حکام کے مطابق یہ کارروائی حالیہ دہشت گرد حملوں، خصوصاً کراچی میں سندھ رینجرز کے کیمپ پر حملے اور خیبر پختونخوا و بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے جواب میں کی گئی۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پاک۔افغان سرحد کے قریب زمینی آپریشن کیا گیا، جس کے بعد پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے وابستہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق کارروائی میں متعدد شدت پسند مارے گئے اور دہشت گردوں کے تین اہم مراکز تباہ کر دیے گئے۔
افغانستان کا دعویٰ
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کو "بزدلانہ جارحیت” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ فضائی حملوں میں 35 سے زائد شہری، جن میں بزرگ، خواتین اور 4 سے 9 سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے جبکہ 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ کابل نے ایک بار پھر پاکستان کے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ ہے۔











