نئی دہلی:8 مارچ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے اتم نگر دہلی میں ترون نامی نوجوان کے باہمی جھگڑے میں قتل کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترون کا قتل اسی فرقہ پرستی کے ماحول کی پیداوار ہے جس نے ملک میں ہزاروں لوگوں کی جانیں لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر اور ملک کی موجودہ صوبائی و مرکزی حکومتیں جس منحوس سیاست کو فروغ دے رہی ہیں، اس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوسکتا۔
مولانا قاسم نوری نے کہا کہ مجرم کوئی بھی ہو اسے قانون اور انصاف کے مطابق سزا ملنی چاہیے، لیکن انصاف کے بجائے جنگل راج اور آمریت کا ماحول قائم کرنا، اور اگر ملزم مسلمان ہوں تو کہیں انکاؤنٹر کے نام پر اور کہیں غیر قانونی بلڈوزر چلا کر کارروائی کرنا نہ صرف ملک کے قانون اور نظامِ انصاف کی توہین ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سرکار فرقہ پرست عناصر کی تسکین کے لیے جس طرح اتم نگر میں بلڈوزر کی کارروائی کروا رہی ہے وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر عدالت عظمیٰ کو از خود نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو جمعیۃ علماء عدالت سے رجوع کرے گی تاکہ دہلی ایم سی ڈی انتظامیہ کو یہ واضح ہو کہ پندرہ دن کے قانونی نوٹس کے بغیر کسی کے گھر کو مسمار کرنا سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس پر جرمانہ عائد کیا جانا چاہیے۔
مولانا قاسم نوری نے اس موقع پر ترون کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ایسے غمزدہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترون کی موت کی آڑ میں کچھ فرقہ پرست عناصر دو برادریوں کے درمیان نفرت اور تفریق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے ذمہ دار افراد کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی سازشوں کا حصہ نہ بنیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس جو امن و قانون کے قیام میں بہتر کردار ادا کر رہی تھی، اب موجودہ سرکار کے اشارے پر ایم سی ڈی کے ذریعے قانون اور آئینی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بلڈوزر کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے بھی خطرناک ہے۔







