الہ آباد ہائی کورٹ نے لیو ان ریلیشن شپ کے حوالے سے ایک اہم اور واضح حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی بالغ عورت کے ساتھ اس کی رضامندی سے لیو ان ریلیشن شپ میں رہتا ہے تو اسے جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ اخلاقیات اور قانون دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر کوئی قانون نہیں توڑا گیا تو صرف سماجی اصولوں کی بنیاد پر مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے درخواست گزار جوڑے کی گرفتاری پر اگلے حکم تک روک لگاتے ہوئے پولیس کو انہیں تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
•گرفتاری پر پابندی اور جان کو خطرہ
یہ حکم جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ کی ڈویژن بنچ نے عرضی گزاروں انامیکا اور نیترپال کی فوجداری رٹ درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔ مزید برآں، عدالت نے خاتون کے اہل خانہ کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کا کوئی فرد جوڑے کو کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ وہ نہ تو ان کے گھر میں داخل ہوں گے اور نہ ہی فون، میسج یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ایس پی کی براہ راست ذمہ داری
عدالت نے شاہجہاں پور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کو سیکورٹی کے معاملے کے لیے ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا۔ عدالت نے کہا کہ جوڑے کی حفاظت کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے 2018 کے شکتی واہنی کیس میں اس سلسلے میں پہلے ہی واضح قوانین قائم کر دیے تھے۔ عدالت نے رجسٹرار (تعمیل) کو ہدایت دی کہ وہ 24 گھنٹے کے اندر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، شاہجہاں پور کے ذریعے اس حکم کو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، شاہجہاں پور اور سٹیشن ہاؤس آفیسر، جیتی پور پولیس اسٹیشن تک پہنچائے۔ کیس کی اگلی سماعت 8 اپریل کو ہوگی۔



