اردو
हिन्दी
مئی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہیں اگلا نمبر آپ کا ہے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہیں اگلا نمبر آپ کا ہے
435
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ۔نئی دہلی

ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔جہاں آئین کی مختلف دفعات اور بنیادی حقوق کے تحت انسان کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے،اس کی تبلیغ کرنے اورقبول کرنے کی آزادی ہے۔ظاہر ہے قبول کرنے کا معاملہ تبھی آتا ہے جب دوسرے کی جانب سے پیش کش ہو ۔آج کل یہ پیش کش ڈیجٹل بھی ہوگئی ہے ۔گوگل پر سرچ کیجیے تو ہر مذہب کے بارے میں مثبت اور منفی دونوں طرح کی معلومات دستیاب ہیں۔جس کا جی چاہے دیکھ ،پڑھ اور سن سکتا ہے۔اس ڈیجٹل دنیا کے لوگ اپنی تحقیق اور ریسرچ کے مطابق اپنا دین و ایمان بدل لیتے ہیں۔بھارت کے آئین میں تبلیغ دین کی آزادی موجود ہے۔تبلیغ دین کا لازمی نتیجہ تبدیلیٔ مذہب ہے۔مذہب کی تبدیلی کے معاملے میں کسی مبلغ کا اس کے سواکوئی فائدہ نہیں کہ اس کے عقیدے کے مطابق کچھ ثواب اور پنیہ مل جائے گا جو اسے مرنے کے بعد جہنم کے عذاب سے بچا سکتا ہے۔اسلام کے عقیدے کے مطابق یہ ثواب بھی اس صورت میں ملے گا جب کہ اسلام قبول کرنے والے کو کوئی دنیا وی لالچ،مال،منصب،نہ دیا گیاہو ،اس نے اپنی جان و مال کے ضائع ہونے کے خوف سے اسلام قبول نہ کیا ہو،بلکہ اس نے اپنے پورے ہوش و حواس وعقل و شعورسے سوچ سمجھ کر ،بغیر کسی دنیاوی غرض کے دین قبول کیا ہو۔

پوری اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلامی حکومت نے کہیں بھی اور کسی زمانے میں بھی لالچ اور خوف سے کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا۔قرآن مجید میں صاف صاف ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ (دین میں کوئی جبر نہیں) کا اعلان کیا گیا ہے۔جس پر مسلمان ہمیشہ سے عمل کرتے چلے آئے ہیں۔اس لیے مولانا عمر گوتم اور ان کے دعوہ سینٹر پر یہ الزام سراسر جھوٹا اور سیاسی مقاصد کے لیے لگایا گیا ہے کہ وہ جبراً اور لالچ دے کر اسلام قبول کراتے تھے۔یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ مولانا دعوہ سینٹر کے ذریعے یہ کام گزشتہ 11سال سے کررہے تھے،ان کا سینٹر کسی جنگل میں زیر زمین تہہ خانے میں نہیں تھا۔بلکہ ملک کی راجدھانی کے مشہورعلاقے بٹلہ ہائوس میں ہے۔یہ مسلم علاقہ ہمیشہ سے جانچ ایجنسیوں کی زد میں رہا ہے۔آخر آج 11سال بعد یوگی حکومت کو معلوم ہوا؟کہ عمر گوتم مذہب کی تبدیلی کا کوئی ریکٹ چلا رہے تھے؟جیسا کہ مجھے معلوم ہے عمر گوتم صاحب نو مسلموں کے ڈاکیو مینٹیشن میں مدد کرتے تھے اور ڈاکیومینٹیشن کے سارے کام سرکار کی عدالتوں میں ہوتے ہیں ،ان کے پاس بیشتر نومسلم مجسٹریٹ کا سر ٹیفکیٹ ساتھ میں لاتے تھے ،گویا یہ سارے کام علی الاعلان ہورہے تھے اور یہ بھارتی آئین کے مطابق تھے۔اس لیے ان کی گرفتاری بھارت کے آئین کا مذاق ہے۔اس گرفتاری پر اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ بیان کہ ان پر دیش دروہ کا مقدمہ لگایا جائے اور ان کی جائداد قرق کرلی جائے ملک کے آئین کی توہین ہے ،ایک اہم آئینی منصب پر بیٹھے ہوئے شخص کو گلی، محلے کے غنڈوں کی زبان میں بات نہیںکرنا چاہئے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی اور چھپی نہیں ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی، سنگھ کی سیاسی تنظیم ہے ۔نہ ہی اس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت ہے۔سنگھ کا مقصد بھارت کو ہندو راشٹر بنانا ہے اور منو اسمرتی کے قوانین کے مطابق رام راجیہ قائم کرنا ہے۔سنگھ کی1925سے ساری جد جہد اسی مقصد کے لیے ہے ۔مجھے سنگھ کے مقصد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔یہ ہر سچے دھارمک انسانی گروہ کی دھارمک ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دھرم کے مطابق نظام حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے ،مگر یہ کوشش اس ملک کے آئین کے مطابق ہونا چاہئے۔سنگھ کو پورا اختیار ہے اور اس وقت تمام ذرائع و وسائل اس کے قبضے میں ہیں کہ وہ اپنے دھرم کا پرچار کرے،رام راجیہ کا نقشا پیش کرے،اگر دیش کی جنتا ان کو قبول کرتی ہے تو کسی مسلمان کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے ۔لیکن باطل مذاہب ہمیشہ سے پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہیں،مناظرے اور مباحثے سے گریز کرتے ہیں۔سیدھے سیدھے مقابلہ کرنے سے گھبراتے ہیں ،ذاتیات پر حملہ آور ہوتے ہیں،غلط فہمیاں پھیلاتے ہیںاور ہمیشہ اپنے منھ کی کھاتے ہیں۔

عمر گوتم کی گرفتاری پر ہمارا ردعمل بہت مایوس کن ہے۔ابھی تک ہم پریس نوٹ اور سوشل یوٹیوب چینلوں پر مباحثہ کررہے ہیں۔اس سے قبل ڈاکٹر ذاکر نائک کی گرفتاری پر بھی ایسا ہی ہوا تھا۔اس وقت تو بعض مسلم گروہوں نے اپنی خوشی کا اظہار تک کرڈالا تھا۔ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ عمر گوتم کی گرفتا ری اس لیے نہیں ہوئی ہے کہ وہ کوئی غیر شرعی اور غیر قانونی دھندہ کررہے تھے۔بلکہ اس لئے ہوئی ہے کہ وہ دین حق کی تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ملک میں یہ کام صر ف ان کا ہی نہیں ہے بلکہ ملت کے ہر فرد پر یہ فریضہ عائدہوتا ہے کہ وہ اللہ کا دین دوسروں تک پہنچائے۔ان کی گرفتاری پر ہماری خاموشی مستقبل میں اسلام کی تبلیغ میں رکاوٹ بن جائے گی ۔موجودہ مرکزی حکومت تبدیلی مذہب کے حق کو آئینی طور پر ختم کردینا چاہتی ہے ۔ہوسکتا ہے اس کے لیے وہ آئین میں ترمیم کرے اور پارلیمنٹ میں کوئی بل لے آئے جس کو منظور ہونے سے موجودہ حالات میں کوئی نہیں روک سکتا۔اگر ایسا ہوا تو ہندوستان میں مذاہب کی اشاعت اور تبلیغ ایک جرم بن جائے گا۔ یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ سلسلہ عمر گوتم پر ختم ہوجائے گا اور یہ صرف اتر پردیش میں الیکشن جیتنے کے لیے ایک حربہ تک محدود ہے ۔نہیں نہیں ایسا قطعاً نہیں ہے،ایسا سوچنے والوں کو اپنی باری کا انتظار کرنا چاہیے۔ رام راجیہ کے قیام کے لیے لازمی ہے کہ یہاں مذہب کی تبلیغ اور تبدیلی پر روک لگائی جائے،اس لیے یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔ابھی افراد نشانے پر ہیں پھر تنظیموں کا نمبر آئے گا۔

ضرورت ہے کہ مسلم تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارموں مثلاً مسلم پرسنل لاء بورڈ،مسلم مجلس مشاورت،ملی کونسل وغیرہ کے تحت کوئی مشترکہ اور ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے۔قانون دانوں پر مشتمل ایک لیگل سیل ہو جو ایک طرف غیر آئینی گرفتاریوں پر اعلیٰ عدالت سے رجوع کرے اوردوسری طرف نرسنگھ آنندجیسے لوگوں کی گرفتاریوں کو یقینی بنائے جو سماج کے لیے ناسور ہیں ۔ٹی وی چینلوں پر ’’مذہب کا انتخاب انسان کا بنیادی حق ہے ‘‘ موضوع پر مباحثے ہوں،اس کام میں دیگر مذاہب کے علماء اور دانشوروں کو ساتھ لیا جائے۔وہ لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا ہے اور وہ بڑے عہدوں پر ہیں انھیں باہر لایا جائے ان کے ذریعے پریس کانفرنس کرائی جائے۔ہندو تنظیموں کی شدھی کرن تحریک اور گھر واپسی کے نام پرظلم و زیادتی کی کارگزاریاں اجاگر کی جائیں۔بھارتی آئین پر یقین رکھنے والی سیاسی لیڈر شپ کو متحد کیا جائے۔ان کے ذریعے آواز بلند کی جائے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہر شخص عمرفاروق ؓنہ سہی عمر گوتم بن جائے اور نور حق بن کر باطل کے اندھیروں کا خاتمہ کردے۔مگر عمر گوتم کی گرفتاری پریہ خوف ناک سناٹا اوروحشت ناک خاموشی،ملی اور مذہبی قیادت کی کم ہمتی ظاہر کررہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ میرے اندیشے کہیں حقیقت نہ بن جائیں ۔اس لیے کہ

اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہیں اگلا نمبر آپ کا ہے

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN