تہران — سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تاریخی امن معاہدے کی خوشی چند گھنٹے بھی برقرار نہ رہ سکی اور مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ہولناک جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی سمندری تجارت کے سب سے بڑے راستے آبنائے ہرمز کو ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے دوبارہ مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ ایران کے اس انتہائی قدم کے بعد خلیجِ فارس میں کارگو اور سپر ٹینکرز کی نقل و حرکت مکمل طور پر رک گئی ہے، جس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین دستخط شدہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کو منسوخ ہونے کے قریب پہنچا دیا ہے۔
تہران کی سخت ترین وارننگ: "معاہدہ یکطرفہ نہیں ہو سکتا”
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی پر آ کر اعلان کیا کہ امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اسرائیل کو لبنان پر بمباری کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا:
"امریکہ اور اس کے اتحادی یہ نہ سمجھیں کہ ایران پابندیاں ہٹانے اور تیل بیچنے کے بدلے اپنے علاقائی بھائیوں (حزب اللہ اور لبنان) پر بمباری پر خاموش رہے گا۔ اگر اسرائیل نے سیز فائر کی خلاف ورزی جاری رکھی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کر کے سفارتی بدتمیزی کی، تو ایران آبنائے ہرمز کو دنیا کے لیے مستقل قبرستان بنا دے گا۔ اب یہاں سے ایک قطرہ تیل بھی باہر نہیں جائے گا۔”








