لکھنؤ (خصوصی تجزیہ) — اتر پردیش کی سیاست اس وقت ایک انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ریاست کے سیاسی گلیاروں میں یہ بحث عروج پر ہے کہ کیا اکھلیش یادو کی قیادت والی سماجوادی پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے؟ وقت سے پہلے اسمبلی انتخابات کی تیز ہوتی اٹکلوں کے درمیان، بی جے پی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی کے کئی بڑے لیڈر اکھلیش یادو کے فیصلوں سے ناراض ہیں- سماجوادی پارٹی میں ممکنہ اختلافات اور اندرونی پھوٹ کی خبریں ایک بار پھر بھارتی سیاست میں زیر بحث ہیں۔ ایسے وقت میں جب بعض سیاسی حلقوں میں قبل از وقت انتخابات کی قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں، بی جے پی اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ مزید تیز ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا واقعی سماجوادی پارٹی کسی بڑے داخلی بحران کا شکار ہے یا یہ محض ایک سیاسی بیانیہ ہے جسے مخالفین سیاسی فائدے کے لیے آگے بڑھا رہے ہیں۔
بی جے پی کا دعویٰ: "اکھلیش سے کئی ایم ایل ایز ناراض ہیں”
وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں کا اشارہ ہے کہ سماجوادی پارٹی کے اندر داخلی جمہوریت ختم ہو چکی ہے اور اکھلیش یادو صرف چند قریبی مشیروں کے کہنے پر پارٹی چلا رہے ہیں۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملوائم سنگھ یادو کے دور کے پرانے اور وفادار لیڈر اب خود کو سائیڈ لائن محسوس کر رہے ہیں اور وہ بہت جلد کوئی بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ اسی اندرونی خلفشار کی وجہ سے یوپی میں جلد انتخابات کی نوبت آ سکتی ہے۔ بی جے پی کے رہنما دعویٰ کر رہے ہیں کہ سماجوادی پارٹی کے کئی سینئر رہنما قیادت سے مطمئن نہیں اور مستقبل میں بڑی سیاسی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ تاہم اب تک ایسی کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی جو پارٹی میں بڑے پیمانے پر بغاوت یا ٹوٹ پھوٹ کی تصدیق کرتی ہو۔
اکھلیش یادو کا جوابی وار: "یہ ہار کے خوف سے پیدا ہوا نیریٹو ہے”
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے لکھنؤ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی کے ان دعووں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"بی جے پی کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے کوئی کام نہیں ہے۔ وہ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کے محاذ پر بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ جب بھی بی جے پی کو اپنی سیاسی زمین کھسکتی ہوئی نظر آتی ہے، وہ سماجوادی پارٹی میں پھوٹ کی جھوٹی افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری پارٹی پوری طرح متحد ہے اور ہم وقت سے پہلے انتخابات کے لیے بھی بالکل تیار ہیں۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت دستیاب شواہد کی بنیاد پر سماجوادی پارٹی میں کسی بڑی اور فوری تقسیم کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اتر پردیش کی سیاست میں ہر بڑی جماعت مسلسل اپنی صف بندیوں کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے اور مخالف جماعتوں کے اندر کمزوری کا تاثر پیدا کرنا انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین موجودہ صورتحال کو "سیاسی نفسیاتی جنگ” قرار دے رہے ہیں۔










