لکھنؤ: اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع ایک کمرشل کمپلیکس میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق آگ اس عمارت میں لگی جہاں کوچنگ سینٹر، گیمنگ زون اور دیگر تجارتی سرگرمیاں چل رہی تھیں۔ آگ تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی جس کے باعث اندر موجود کئی افراد پھنس گئے۔
آخر لکھنؤ کی عمارت آگ میں ’موت کا کنواں‘ کیوں بن گئی؟
علی گنج کے کمرشل کمپلیکس میں لگنے والی مہلک آگ کے بعد عمارت کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق عمارت میں داخلے اور اخراج کے لیے بنیادی طور پر ایک ہی راستہ موجود تھا، جبکہ بعض حصوں میں بایومیٹرک لاک سسٹم بھی نصب تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں یہی عوامل عمارت کو لوگوں کے لیے ’’موت کا کنواں‘‘ بنا گئے۔
حادثے کے بعد فائر سیفٹی ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا عمارت میں ہنگامی اخراج (Emergency Exit) کے مناسب انتظامات موجود تھے یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی کمرشل یا تعلیمی عمارت میں ایک سے زائد محفوظ راستوں اور فعال فائر سیفٹی سسٹم کا ہونا ضروری ہے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کا فوری انخلا ممکن بنایا جا سکے۔
حکام نے واقعے کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور عمارت کے نقشے، حفاظتی انتظامات اور فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر کسی قسم کی غفلت یا ضابطہ خلافی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔











