پٹنہ — بہار میں جہاں ایک طرف بھارت تیواری انکاؤنٹر پر سیاسی گھماسان جاری ہے، وہیں دوسری طرف لالو پرساد یادو کے خاندان کے اندر سے ایک سنسنی خیز کرائم اسٹوری سامنے آئی ہے۔ آر جے ڈی کے رہنما اور سابق وزیر تیج پرتاپ یادو کے پٹنہ میں واقع سرکاری مکان سے 20 لاکھ روپے نقد اور لاکھوں مالیت کے سونے چاندی کے زیورات چوری ہو گئے ہیں۔
سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس میگا چوری کا الزام کسی بیرونی چور پر نہیں، بلکہ خود تیج پرتاپ یادو کے انتہائی بھروسے مند اور قریبی پرسنل اسسٹنٹ (PA) موتی لال پر لگا ہے، جو واردات کے بعد سے اپنا موبائل فون سوئچ آف کر کے فرار ہو چکا ہے۔
چوری کا پتہ کیسے چلا؟
ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب تیج پرتاپ یادو کو کسی ضروری کام کے لیے نقد رقم اور کچھ دستاویزات کی ضرورت پڑی۔ جب انہوں نے گھر کی الماری اور لاکر چیک کیا، تو وہاں سے 20 لاکھ روپے غائب تھے اور سونا چاندی بھی اپنی جگہ پر موجود نہیں تھا۔
جب گھر کے عملے سے پوچھ گچھ کی گئی، تو معلوم ہوا کہ ان کے پی اے موتی لال گزشتہ کچھ گھنٹوں سے لاپتہ ہیں اور ان کا سرکاری و ذاتی موبائل نمبر بھی بند آ رہا ہے۔ تیج پرتاپ یادو کی طرف سے فوری طور پر پٹنہ کے متعلقہ تھانے میں موتی لال کے خلاف نامزد ایف آئی آر (FIR) درج کروا دی گئی ہے۔











