تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں اتوار کو لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ان کے اہلِ خانہ، صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ایرانی مسلح افواج و پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ تاہم سب کی توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں کہیں دکھائی نہیں دیے۔
سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر میں علی خامنہ ای کے تین بیٹے، مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای اپنے والد کے تابوت کے قریب کھڑے نظر آئے۔ نمازِ جنازہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور آئی آر جی سی کے کمانڈر اِن چیف احمد وحیدی بھی شریک ہوئے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی پر چہ مگوئیاں
علی خامنہ ای کی وفات کے بعد رواں سال مارچ میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا، لیکن عہدہ سنبھالنے کے بعد سے وہ کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے اور نہ ہی ان کا کوئی باضابطہ عوامی خطاب سامنے آیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر حاضری کی بنیادی وجہ سیکیورٹی خدشات ہو سکتے ہیں، جس کے باعث انہیں عوامی اجتماعات سے دور رکھا جا رہا ہے۔
اہلیہ کی تعزیتی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے
مجتبیٰ خامنہ ای اس سے قبل اپنی اہلیہ زہرا حداد عادل کی تعزیتی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔ زہرا حداد عادل بھی اسی حملے میں جاں بحق ہوئی تھیں جس میں علی خامنہ ای سمیت خاندان کے متعدد افراد کی جان گئی تھی۔ ان حملوں میں مجتبیٰ کے کم عمر بیٹے سمیت خاندان کے دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔
ملک بھر میں کروڑوں افراد کی شرکت کا امکان
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای کی وفات پر جاری سرکاری سوگ کی تقریبات میں ملک بھر سے ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ تہران سمیت مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات اور جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔









