نئی دہلی: کرناٹک میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے معاملے میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ داؤنگیرے کے ڈپٹی کمشنر جی ایم گنگادھرسوامی نے کہا ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام حذف کرنے کا دباؤ تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ کو اپنی طرف سے کسی ووٹر کا نام حذف کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
ڈی سی کے مطابق SIR کے دوران داؤنگیرے ضلع کی سات اسمبلی نشستوں میں ووٹرز کے نام حذف کرنے کے لیے مجموعی طور پر 2,325 فارم 7 درخواستیں آن لائن داخل کی گئیں۔ ان میں سے 1,106 درخواستیں مسترد کر دی گئیں، جبکہ منظور کی گئی درخواستوں میں عملی طور پر صرف 112 ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے۔
صرف 112 نام حقیقتاً حذف کیے گئے
داؤنگیرے کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق جن 112 افراد کے نام حذف کیے گئے، ان میں پانچ نیپالی شہری تھے، جبکہ ایک شخص دبئی میں رہ رہا تھا۔ باقی افراد کے بارے میں بتایا گیا کہ یا تو ان کی موت ہو چکی تھی یا وہ کسی دوسرے مقام پر منتقل ہو چکے تھے۔
گنگادھرسوامی نے یہ بھی کہا کہ ضلع کے کسی بھی پولنگ اسٹیشن علاقے میں فارم 7 درخواستیں اجتماعی طور پر جمع نہیں کرائی گئیں۔ متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران (EROs) نے اس حوالے سے تصدیقی خطوط بھی جمع کرائے ہیں، اسی لیے داؤنگیرے میں اس معاملے پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
داؤنگیرے میں 7,086 افراد کو نوٹس
ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے مطابق داؤنگیرے ضلع میں تقریباً 12.98 لاکھ ووٹرز ہیں۔ SIR کے دوران 7,086 افراد کو نوٹس بھیجے گئے۔ ڈی سی کے مطابق ان میں سے 6,733 معاملات میں سماعت ہو چکی ہے، جبکہ 353 افراد نے نوٹس کا جواب نہیں دیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے 29 ستمبر کو کیے گئے ایک اعلان کے مطابق الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو بعض نوٹس کے معاملات کو سماعت یا دستاویزات کے بغیر بھی نمٹانے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم داؤنگیرے میں انتظامیہ نے بتایا کہ بڑی تعداد میں معاملات میں پہلے ہی سماعت مکمل کی جا چکی ہے۔
فارم 7 کیا ہے؟
فارم 7 ووٹر لسٹ میں کسی نام کے اندراج پر اعتراض یا کسی ووٹر کا نام حذف کرنے کی درخواست کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کرناٹک میں SIR کے دوران بڑی تعداد میں فارم 7 داخل کیے جانے پر سیاسی تنازع پیدا ہوا ہے۔
ریاستی چیف الیکٹورل افسر وی انبو کمار نے حال ہی میں واضح کیا تھا کہ SIR کے دوران فارم 7 کے ذریعے اعتراضات موصول ہونے کے باوجود محض اعتراض داخل کیے جانے کی بنیاد پر کسی ووٹر کا نام حذف نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق ہر معاملے میں مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جا رہا ہے۔
کرناٹک میں فارم 7 کو لے کر سیاسی تنازع
کرناٹک میں فارم 7 درخواستوں کو لے کر حکمراں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان بھی الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ اجتماعی طور پر فارم 7 داخل کرکے اہل ووٹرز کے نام حذف کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
یکم اکتوبر کو کرناٹک کے چیف الیکٹورل افسر نے مبینہ طور پر بڑی تعداد میں فارم 7 داخل کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ اس معاملے میں مختلف اضلاع سے شکایات اور ایف آئی آر کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
SIR کے دوران ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی
کرناٹک میں SIR کے ڈرافٹ ووٹر رول میں پہلے ہی بڑی تعداد میں نام شامل نہیں کیے گئے تھے۔ اگست میں جاری ڈرافٹ رول کے مطابق ریاست میں پہلے موجود تقریباً 5.54 کروڑ ووٹرز کے مقابلے میں تقریباً 4.46 کروڑ ووٹرز ڈرافٹ لسٹ میں شامل تھے، یعنی تقریباً 1.08 کروڑ نام ڈرافٹ مرحلے میں شامل نہیں تھے۔ الیکشن حکام نے ان تبدیلیوں کی مختلف وجوہات میں غیر موجود، منتقل ہو جانے والے، فوت شدہ اور ڈپلیکیٹ ووٹرز کو شامل کیا تھا۔
اس کے بعد SIR کے دوسرے مرحلے میں دعووں اور اعتراضات کے ذریعے ووٹرز کو اپنے نام اور تفصیلات درست کرانے کا موقع دیا گیا۔ اسی مرحلے میں فارم 6، 7 اور 8 کے ذریعے نئے اندراج، حذف، منتقلی اور اصلاح سے متعلق درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔










