ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جمعرات کو متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کے حوثی گروپ اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آ رہی ہے۔
یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق میزائل نے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا اور ایئرپورٹ پر فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔ تاہم، سعودی حکام کی جانب سے اس تازہ حملے کی فوری طور پر تصدیق یا اس سے ہونے والے نقصان اور جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ریاض میں کئی دھماکوں کی آوازیں
خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کو ریاض کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ شہر میں موجود بعض سفارت کاروں کو اپنے سفارت خانوں کے اندر محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ متعدد بین الاقوامی اسکولوں نے بھی حفاظتی اقدامات کیے۔ بعض مقامات پر طلبہ کو عمارتوں کے محفوظ حصوں میں منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
کچھ کاروباری علاقوں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے اور بعض کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو عارضی طور پر عمارتوں سے باہر نکالنے کی اطلاع دی۔ تاہم ریاض میں ہونے والے تازہ دھماکوں کی مکمل نوعیت اور تمام مقامات کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایئرپورٹ پر پروازیں متاثر
تازہ کشیدگی کے دوران کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کئی پروازوں میں تاخیر اور بعض پروازوں کی منسوخی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایئرپورٹ کی سرگرمیوں پر اس صورتحال کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان نے بین الاقوامی ایئرلائنز کو سعودی فضائی حدود میں پروازیں جاری رکھنے کے حوالے سے بھی نئی وارننگ دی ہے۔ تاہم ان دعوؤں اور دھمکیوں کے عملی اثرات کے بارے میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
ایک روز پہلے بھی کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملہ
ریاض میں تازہ دھماکوں سے ایک روز پہلے سعودی حکام نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے کی تصدیق کی تھی۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق اس حملے میں ایک سوڈانی شہری جاں بحق جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں سعودی، مصری اور پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔
سعودی حکام نے یہ بھی بتایا کہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک الگ حملے میں دو خواتین جاں بحق اور 28 افراد زخمی ہوئے۔ یوں منگل اور بدھ کو سعودی عرب کے دونوں ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔
حوثیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اس کے جواب میں یمن میں 80 سے زائد حوثی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ان فوجی کارروائیوں میں ہونے والے نقصانات کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔
سعودی عرب کی جانب سے تازہ حملے کی تصدیق کا انتظار
جمعرات کو حوثیوں کے نئے دعوے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا کنگ خالد ایئرپورٹ پر واقعی بیلسٹک میزائل گرا یا اسے سعودی دفاعی نظام نے راستے میں روک لیا۔ اس وقت تک سعودی عرب کی جانب سے تازہ حملے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔
اسی وجہ سے حوثیوں کے اس دعوے کو فی الحال دعوے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی دونوں فریقوں کی جانب سے حملوں اور فوجی کارروائیوں سے متعلق مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق مشکل رہی ہے۔
یمن میں بڑھتی لڑائی کا پس منظر
ریاض میں تازہ واقعات یمن میں جاری شدید لڑائی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ حوثی فورسز اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان حالیہ ہفتوں میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ باب المندب آبنائے کے اطراف جاری فوجی سرگرمیوں نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد یمن میں دو لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس کشیدگی نے یمن کے پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
فی الحال ریاض میں دھماکوں اور کنگ خالد ایئرپورٹ پر مبینہ حملے سے متعلق صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ حوثیوں کے دعوے کی مکمل تصدیق اور حملے کے ممکنہ جانی و مالی نقصان سے متعلق سعودی حکام کی مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔










