رامپور -(روزنامہ خبریں ) :محمد علی جوہر یونیورسٹی بچاؤ تحریک کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے مرکزی ذمہ داران پر مشتمل اک وفد محمد علی جوہر یونیورسٹی پہنچا اور احتجاجی طلبہ کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل سنے۔ وفد نے طلبہ کو یقین دلایا کہ ان کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی ہند (JIH) کے اعلیٰ سطحی وفد نے محمد علی جوہر یونیورسٹی، رامپور پہنچ کر دھرنے پر بیٹھے طلبہ سے ملاقات کی۔ وفد کے اراکین نے طلبہ سے تفصیلی گفتگو کی اور یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام کے حکم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

وفد میں جماعت اسلامی ہند کے قومی سکریٹری محمد شفیع مدنی، قومی سکریٹری محمد احمد، اسسٹنٹ سکریٹری انعام الرحمن، امیر حلقہ اتر پردیش (مغرب) ضمیر حسن فلاحی، جمیل احمد، سینئر صحافی سید خلیق احمد اور امیر مقامی جماعت اسلامی ہند رامپور مولانا عبدالسلام بستوی ،جمیل احمد شامل تھے۔

وفد کے ارکان نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ طلبہ کا مستقبل سب سے اہم ہے۔ اگر کسی ادارے سے متعلق قانونی یا انتظامی مسائل موجود ہیں تو انہیں آئینی اور قانونی دائرے میں حل کیا جانا چاہیے، تاکہ ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
رہنماؤں نے طلبہ کو یقین دہانی کرائی کہ جماعت اسلامی ہند ان کے ساتھ کھڑی ہے اور معاملے کو متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔
دریں اثنا جماعت اسلامی ہند کی جانب سے رامپور ضلع انتظامیہ کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔ میمورنڈم میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدامی حکم پر فوری روک لگانے اور معاملے کا منصفانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
میمورنڈم میں کہا گیا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی 2006 میں اتر پردیش اسمبلی کے ایکٹ کے تحت قائم ہوئی اور یہاں تقریباً 3 ہزار طلبہ انجینئرنگ، فارمیسی، مینجمنٹ اور دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند نے مؤقف اختیار کیا کہ عمارتوں کے انہدام سے صرف ایک تعمیراتی معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر اثر پڑے گا۔
میمورنڈم میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اگر کوئی قانونی خامی موجود ہے تو اسے ضابطے کے مطابق حل کرنے کا موقع دیا جائے اور کسی بھی کارروائی سے پہلے طلبہ کے مستقبل اور تعلیم کو ترجیح دی جائے










