کولکاتا: مغربی بنگال میں واقع 136 سال پرانی گوری پور جامع مسجد (بانکرا مسجد) کے حوالے سے ریاستی حکومت نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ حکومت نے مسجد میں عوامی داخلے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ مسجد میں نماز ادا کرنے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔ یہ مسجد کولکاتا کے نیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے (NSCBI Airport) کے احاطے میں واقع ہے۔
رن وے کی توسیع کی وجہ بتائی گئی
ریاستی وزیر دلیپ گھوش نے حکومت کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ کے رن وے کی توسیع کے منصوبے کے تحت مسجد کی منتقلی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے، اسی وجہ سے فی الحال مسجد میں داخلہ اور نماز دونوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔
ان کے مطابق مسجد ایئرپورٹ کے حساس علاقے میں واقع ہے، جہاں رن وے کی توسیع کے کام میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف انتظامی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے۔
مسجد کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا
دلیپ گھوش کے مطابق گوری پور جامع مسجد کی منتقلی کا معاملہ کافی عرصے سے زیر غور تھا۔ اب حکومت مسجد انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے تاکہ مسجد کو مناسب مقام پر منتقل کیا جا سکے اور ایئرپورٹ کی توسیعی منصوبہ بندی مکمل ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے مسجد تک جانے والی سڑک بھی متاثر ہوئی ہے، جس کی مرمت کا کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق منتقلی اور ضروری تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد ہی مسجد کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
حکومت کا مؤقف
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کسی مذہبی سرگرمی کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور حفاظتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات دی ہیں کہ پابندی کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔










