نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر خواتین کے حوالے سے مبینہ امتیازی نظریہ رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے ’مردوں کا ایسا گروہ جو آئین مخالف ہے‘ قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان پر بی جے پی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے راہل گاندھی کے بیرونِ ملک دوروں اور ان کی تفصیلات پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ سیاسی بیان بازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آر ایس ایس اپنا یومِ تاسیس منا رہی ہے اور تنظیم کے سربراہ موہن بھاگوت نے ناگپور میں وجے دشمی خطاب کیا۔
راہل گاندھی نے کیا کہا؟
راہل گاندھی نے منگل، 20 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں آر ایس ایس کو ’آل میل، آئین مخالف کلٹ‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تنظیم خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتی ہے۔
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ ’شیو شکتی‘ پر یقین رکھتے ہیں اور اسی لیے آر ایس ایس کے خلاف جدوجہد کرنا انہیں خوشی دیتی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آر ایس ایس سے وابستہ بہت سی خواتین ان کی سیاسی جدوجہد کی حمایت کرتی ہیں۔
یہ الزامات راہل گاندھی کے سیاسی مؤقف کا حصہ ہیں؛ ان کی پوسٹ میں اس دعوے کی تفصیلی وضاحت نہیں دی گئی کہ آر ایس ایس سے وابستہ کتنی خواتین ان کی حمایت کر رہی ہیں۔
بی جے پی کا جوابی حملہ
راہل گاندھی کے بیان کے جواب میں بی جے پی رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال نے ان کے بیرونِ ملک دوروں پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی اپنے غیر ملکی دوروں، وہاں ہونے والی ملاقاتوں اور ان پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں۔
اس طرح خواتین کے مقام اور نمائندگی سے شروع ہونے والی سیاسی بحث کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات اور سوالات تک پہنچ گئی۔
موہن بھاگوت کا خطاب بھی زیرِ بحث
یہ تنازع آر ایس ایس کے یومِ تاسیس کے موقع پر سامنے آیا۔ تنظیم کے سربراہ موہن بھاگوت نے ناگپور میں اپنے وجے دشمی خطاب میں حکومت کی تبدیلی کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ محض حکومت بدلنے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے۔
بھاگوت نے خبردار کیا کہ احتجاج سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں تقسیم بڑھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں احتجاج کی گنجائش ہے، لیکن اسے مسائل کے حل اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہونا چاہیے۔










