ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے الزام لگایا ہے کہ بھارت کی ترقی سے پریشان بعض بیرونی اور اندرونی قوتیں ملک کو کمزور کرنے اور اس کے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان قوتوں کا اصل ہدف ہے، تاہم ملک کو توڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ محض حکومت کی تبدیلی سے ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
موہن بھاگوت نے یہ بات منگل، 20 اکتوبر کو ناگپور میں آر ایس ایس کے وجے دشمی خطاب کے دوران کہی۔ تنظیم کے قیام کے 101ویں سال کے موقع پر دیے گئے اس خطاب میں انہوں نے قومی اتحاد، سماجی ہم آہنگی، بیرونی اثرات اور ملک میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر اظہار خیال کیا۔
’بھارت ان کا اصل ہدف ہے‘
بھاگوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی ترقی اور گزشتہ چند دہائیوں میں اختیار کی گئی پالیسیوں کی وجہ سے بعض قوتیں اس کے خلاف سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق یہ قوتیں ملک کے اندر موجود اختلافات اور بے اطمینانی سے فائدہ اٹھا کر بھارت اور آر ایس ایس کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کوششوں میں ملک کے اندر موجود بعض افراد اور سیاسی رہنما بھی بیرونی قوتوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تاہم، خطاب میں ان الزامات کے سلسلے میں کسی مخصوص بیرونی قوت یا سیاسی رہنما کے خلاف تفصیلی ثبوت پیش کیے جانے کی تصدیق دستیاب رپورٹوں سے نہیں ہوتی۔
’حکومت بدلنے سے حالات نہیں بدلیں گے‘
آر ایس ایس سربراہ نے حکومت کی تبدیلی کو ملک کے مسائل کا حل قرار دینے والے مؤقف پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت بدلنے سے حالات تبدیل ہو جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا؛ ان کے مطابق آج بھی صرف حکومت کی تبدیلی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دہلی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، یعنی SIR (Special Intensive Revision)، اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے حال ہی میں ان احتجاجی سرگرمیوں کو ’حکومت کی تبدیلی کی جدوجہد‘ سے تعبیر کیا تھا۔
بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر ممالک کی مثالیں
بھاگوت نے فرانس، البانیہ، بنگلہ دیش اور نیپال سمیت مختلف ممالک میں پیدا ہونے والی بے چینی اور سیاسی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی اثرات معاشروں کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مغربی دنیا سے آنے والی بعض فکری اور سماجی تبدیلیاں روایتی اقدار، ثقافت اور سماجی نظم کے لیے چیلنج بن رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دوسرے ممالک میں پیدا ہونے والی بدامنی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور بھارت کو ایسی صورت حال سے بچانے کے لیے سماجی اتحاد اور قومی شعور کو مضبوط بنانا چاہیے۔ یہ تشریحات بھاگوت کا نقطۂ نظر ہیں؛ ان ممالک کی سیاسی تبدیلیوں کے اسباب الگ الگ ہیں اور انہیں صرف بیرونی مداخلت سے جوڑنا ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے۔ احتجاج جمہوریت کا حصہ، لیکن آئینی حدود ضروری
موہن بھاگوت نے تسلیم کیا کہ عوامی شکایات اور مسائل احتجاج کا سبب بن سکتے ہیں اور جمہوریت میں مظاہروں کی اہمیت ہے۔ تاہم، ان کے مطابق احتجاج کرنے والے گروہوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی رہنماؤں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو معاشرے میں نفرت، تلخی یا تقسیم پیدا کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ اختلافات اور جذبات کے باوجود تمام فریقوں کو آئین، قانون اور سماجی آداب کی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ بدامنی اور تصادم کو بڑھانا۔









