لندن: بھارت میں انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے خلاف جاری احتجاج اب برطانیہ تک پہنچ گیا ہے۔ ہفتہ، 17 اکتوبر کو لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے قریب سینکڑوں افراد جمع ہوئے اور ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (Special Intensive Revision) کے عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج کانگریس سے وابستہ گروپوں اور برطانیہ میں مقیم بھارتی طلبہ کی تنظیموں کی شرکت سے منعقد ہوا۔ معروف یوٹیوبر اور کارکن دھرو راٹھی بھی مظاہرے میں شریک ہوئے اور انہوں نے اجتماع سے ہندی میں خطاب کیا۔ احتجاج کے دوران انتخابی شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کے حوالے سے مطالبات اٹھائے گئے۔
’ووٹ چوری‘ کے الزامات، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ
مظاہرین کا الزام ہے کہ بھارت میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے سے اہل ووٹروں کے حق رائے دہی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے عمل کو شفاف بنایا جائے اور ووٹرز کو اپنے ناموں کی تصدیق اور غلط اندراجات کے خلاف اپیل کا مؤثر موقع فراہم کیا جائے۔
احتجاج میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مظاہرین نے ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کو اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔
تاہم، ووٹر لسٹوں سے نام حذف ہونے کے تمام معاملات کو خودبخود غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف رہا ہے کہ نظرثانی کا مقصد فہرستوں کو درست اور تازہ بنانا ہے۔ اس لیے اصل تنازع حذف کیے گئے ناموں کی وجوہات، طریقۂ کار اور متاثرہ ووٹروں کے لیے دستیاب قانونی چارہ جوئی سے متعلق ہے۔
دھرو راٹھی نے لندن میں مظاہرین سے خطاب کیا
دھرو راٹھی نے پارلیمنٹ اسکوائر میں جمع مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے کو بھارتی شہریوں اور بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔
منتظمین کے مطابق، لندن میں احتجاج کا مقصد بھارت میں انتخابی شفافیت سے متعلق خدشات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔ مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ووٹر لسٹوں میں کسی بھی تبدیلی کے عمل میں اہل شہریوں کے حق رائے دہی کا تحفظ ضروری ہے۔
مودی حامیوں کا جوابی مظاہرہ، پولیس نے دونوں گروپوں کو الگ رکھا
پارلیمنٹ اسکوائر میں احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے حامیوں کا ایک چھوٹا گروپ بھی جمع ہوا۔ اس گروپ نے ’مودی، مودی‘ اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے، جبکہ دوسرے مظاہرین انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بلند کرتے رہے۔
دونوں گروپوں کے درمیان نعرے بازی کے باعث ماحول کشیدہ ہوگیا اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی۔ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے دونوں گروپوں کو الگ رکھا تاکہ صورتحال قابو میں رہے اور کسی تصادم سے بچا جا سکے۔
حکومت کے حامی مظاہرین نے احتجاج کے دوران یہ مؤقف پیش کیا کہ بھارت میں منتخب حکومت کو جمہوری طریقے سے حاصل مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے کا حق ہے اور بیرون ملک ہونے والے مظاہروں سے ملک کی شبیہ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
SIR پر تنازع کیا ہے؟
SIR یعنی Special Intensive Revision ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی کا عمل ہے، جس کے تحت انتخابی فہرستوں کی جانچ اور ضروری اصلاحات کی جاتی ہیں۔ اس عمل کے دوران ووٹروں کی اہلیت، رہائش، وفات اور دیگر متعلقہ تفصیلات کی بنیاد پر فہرستوں کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں اور بعض سماجی کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل کے دوران اہل ووٹروں کے نام بھی حذف ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی درستگی انتخابی عمل کے لیے ضروری ہے۔
لندن میں ہونے والا احتجاج اسی وسیع سیاسی تنازع کا حصہ ہے، جس میں ایک جانب انتخابی شفافیت اور ووٹروں کے حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومتی حامی اور متعلقہ ادارے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کو انتظامی عمل قرار دیتے ہیں۔
بھارت سے باہر بھی انتخابی معاملہ زیر بحث
لندن میں ہونے والے مظاہرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے انتخابی عمل اور SIR سے متعلق تنازع بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں اور طلبہ کے حلقوں میں بھی زیر بحث ہے۔ تاہم، لندن کے احتجاج میں اٹھائے گئے الزامات کی آزادانہ جانچ اور انتخابی فہرستوں سے متعلق سرکاری اعداد و شمار کا جائزہ لیے بغیر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا۔










