نئی دہلی: اروناچل پردیش میں ہندوستان اور چین کی فوجوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کی اطلاعات کے بعد مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ چینی فوج جب قائم شدہ گشتی طریقوں سے ہٹ کر سرگرمیاں کرتی ہے تو لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) کے اطراف صورتِ حال وقتاً فوقتاً متاثر ہوتی ہے۔ وزارت خارجہ کا یہ بیان انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے اروناچل پردیش کے متعدد مقامات پر ہندوستانی اور چینی اہلکاروں کے درمیان آمنے سامنے کی صورتِ حال جاری رہنے کی بات کہی تھی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے 23 اکتوبر کو میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ دونوں ممالک سرحد سے متعلق زیرِ التوا معاملات حل کرنے اور غلط فہمیوں یا کسی غیر ارادی تصادم سے بچنے کے لیے موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار رکھنا دونوں ممالک کے تعلقات کی مجموعی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
ترجمان نے مخصوص واقعات کی تفصیلات کے لیے وزارتِ دفاع سے رجوع کرنے کو کہا۔ حکومت کے بیان میں جھڑپوں کے مقامات، ان کی نوعیت یا کسی جانی نقصان کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
آئی ٹی بی پی سربراہ نے کیا بتایا تھا؟
آئی ٹی بی پی کے سربراہ شتروجیت کپور نے 22 اکتوبر کو راجستھان کے الور میں فورس کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ چند دنوں میں اروناچل پردیش کے کئی مقامات پر ہندوستانی اور چینی اہلکاروں کے درمیان آمنے سامنے کی صورتِ حال پیدا ہوئی، جو ان کے بیان کے وقت تک جاری تھی۔
کپور نے اس موقع پر آئی ٹی بی پی کی نئی تشکیل شدہ ’شوریہ کمانڈو‘ ٹیموں کی کارکردگی کی تعریف کی۔ ان کے مطابق، ان ٹیموں نے سرحد پر پیدا ہونے والی صورتِ حال میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورس پہاڑی اور بلند مقامات پر کارروائی کی صلاحیت بڑھا رہی ہے تاکہ بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔
تاہم، آئی ٹی بی پی سربراہ نے اپنے بیان میں ان مقامات کے نام نہیں بتائے جہاں آمنے سامنے کی صورتِ حال پیدا ہوئی، اور نہ ہی انہوں نے کسی مخصوص واقعے کی مکمل تفصیلات پیش کیں۔
ڈرون اور شوریہ کمانڈوز پر زور
کپور نے کہا کہ چین نے اپنی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کو جدید بنانے اور فوجی صلاحیت بڑھانے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ دور میں صرف روایتی جنگی طریقوں پر انحصار کافی نہیں، بلکہ ڈرون اور ڈرون مخالف نظاموں کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی بی پی سرحدی یونٹوں میں ڈرون سے متعلق صلاحیتیں بڑھا رہی ہے اور شوریہ کمانڈوز کی تشکیل کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ فورس کا مقصد بلند پہاڑی علاقوں میں خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں کی مدد سے سرحدی نگرانی اور فوری ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
ہندوستان اور چین کے درمیان تقریباً 3,488 کلومیٹر طویل لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی نگرانی میں آئی ٹی بی پی کا اہم کردار ہے۔ دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ، موسم اور دونوں جانب فوجی موجودگی سرحدی انتظام کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
سرحدی کشیدگی کے پس منظر میں سفارتی رابطے
ہندوستان اور چین کے تعلقات 2020 میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں مہلک جھڑپ کے بعد شدید متاثر ہوئے تھے۔ دونوں ممالک نے بعد کے برسوں میں فوجی اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے سرحدی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں، تاہم لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے متعلق اختلافات مکمل طور پر حل نہیں ہوئے۔
حالیہ رپورٹوں میں اروناچل پردیش کے تکسنگ علاقے کے قریب کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ تاہم، تازہ آمنے سامنے کی صورتِ حال اور اس مذاکراتی عمل کے درمیان مکمل تعلق کے بارے میں حکام نے تفصیلی وضاحت نہیں دی۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں فریق سرحدی انتظام کو بہتر بنانے اور LAC کے بارے میں ایک دوسرے کی سمجھ بڑھانے کے طریقوں پر بات کرنے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔
کانگریس نے حکومت سے وضاحت مانگی
آئی ٹی بی پی سربراہ کے بیان کے بعد کانگریس نے مرکز سے سرحدی صورتِ حال پر تفصیلی وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ آیا اروناچل پردیش کے بعض علاقوں میں ہندوستانی فوج کی گشت پر کوئی پابندی یا رکاوٹ سامنے آئی ہے، اور حکومت کو اس معاملے پر پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
یہ سوالات اپوزیشن کے سیاسی مؤقف کا حصہ ہیں۔ وزارت خارجہ کے تازہ بیان میں ہندوستانی گشتی رسائی سے متعلق ان الزامات کی مخصوص تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، بلکہ عمومی طور پر چینی فوج کے قائم شدہ گشتی طریقوں سے ہٹنے اور سرحدی صورتِ حال متاثر ہونے کا ذکر کیا گیا۔










