نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ملک میں ’رجیم چینج‘ یعنی حکومت کی تبدیلی کی سازش کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا موازنہ بنگلہ دیش یا فرانس سے کرنا درست نہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن کا مقصد حکومت گرانا نہیں، بلکہ انتخابی عمل میں شفافیت اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج، ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے الزام لگایا تھا کہ بعض سیاسی رہنما اور گروہ ملک میں بدامنی پھیلانے اور ’رجیم چینج‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔ تھرور نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن کے مؤقف کی وضاحت کی۔
’بھارت نہ بنگلہ دیش ہے، نہ فرانس‘
19 اکتوبر کو کیرالہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ بھارت کا موازنہ بنگلہ دیش یا فرانس میں ہونے والے واقعات سے کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن پُرامن احتجاج پر یقین رکھتی ہے اور فرانس میں بسوں یا پولیس اسٹیشنوں کو آگ لگانے جیسے تشدد کے واقعات کی حمایت نہیں کرتی۔
تھرور کے مطابق ’رجیم چینج‘ کی اصطلاح کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جس سے اپوزیشن کے اصل مطالبات کی غلط تصویر سامنے آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن آزادانہ اور منصفانہ انتخابات چاہتی ہے اور ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر سوال اٹھا رہی ہے۔
’یہ حکومت گرانے کا نہیں، آئینی مسئلہ ہے‘
ششی تھرور نے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ایک پریشان کن، بے قاعدہ اور جزوی طور پر غیر قانونی عمل کے ذریعے حذف کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جائے اور اگر اہل ووٹروں کے نام غلطی سے ہٹائے گئے ہیں تو انہیں بحال کیا جائے۔
تھرور نے اس تنازع کو حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے بجائے آئینی مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق شہریوں کو جمہوریت کے تحفظ اور انتخابی اداروں سے جواب طلب کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن آئینی اداروں کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہی، بلکہ ان کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھا رہی ہے۔
یہ مؤقف کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کیے جانے والے ان احتجاجی مطالبات کا حصہ ہے جن میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر نظرثانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
کرن رجیجو نے کیا الزام لگایا تھا؟
مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما کرن رجیجو نے اپوزیشن کے ’رجیم چینج‘ سے متعلق بیانات پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے واقعات اور فرانس میں ہنگاموں جیسی سازش بھارت میں بھی کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کے بقول سازش کرنے والے یہ بھول گئے کہ بھارت نہ بنگلہ دیش ہے اور نہ فرانس۔
رجیجو نے بعض سیاسی رہنماؤں اور گروہوں پر نوجوانوں کو اکسانے اور سڑکوں پر تشدد پھیلانے کی کوشش کا الزام بھی لگایا۔ ان الزامات کے جواب میں تھرور نے کہا کہ اپوزیشن تشدد کی حمایت نہیں کرتی اور اس کی توجہ انتخابی شفافیت اور آئینی حقوق پر ہے۔
ایمرجنسی کے حوالے سے تھرور کا سابقہ بیان
اس سے قبل 10 اکتوبر کو ششی تھرور نے دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج سے پہلے کیے گئے سخت حفاظتی انتظامات اور مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ایمرجنسی سے متعلق ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا تھا۔
مودی نے 2015 میں ایمرجنسی کے دور کی یادوں اور اس تحریک سے حاصل ہونے والے سبق کا ذکر کیا تھا۔ تھرور نے اسی بیان کو طنزیہ انداز میں واپس مودی کی جانب موڑتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے نوجوان بھی انہی میں سے کچھ سبق سیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس صورت حال کو ’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘ سے تشبیہ دی تھی۔
تھرور کا یہ تبصرہ دہلی میں مجوزہ احتجاج سے قبل کیا گیا تھا، جہاں پولیس نے جنتر منتر کی طرف جانے کی کوشش کرنے والے 500 سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لیا تھا۔ احتجاج کا تعلق ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں سے تھا۔
SIR اور ووٹر لسٹوں پر سیاسی تنازع
ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی، یعنی SIR، اس وقت سیاسی بحث کا اہم موضوع ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس عمل میں اہل ووٹروں کے نام بھی حذف ہوئے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نظرثانی کا مقصد مردہ، نقل شدہ یا دیگر وجوہات کی بنا پر نااہل اندراجات کو درست کرنا اور ووٹر لسٹوں کی درستگی برقرار رکھنا ہے۔
اس لیے ووٹر لسٹوں سے نام حذف ہونے کے معاملے میں اصل سوال یہ ہے کہ کتنے نام درست وجوہات کی بنا پر ہٹائے گئے اور کتنے اہل ووٹر غلطی سے فہرست سے باہر ہوئے۔ اس کا تعین متعلقہ ریکارڈ، شکایات اور انتخابی حکام کی جانچ سے ہی کیا جا سکتا ہے۔











