واشنگٹن/تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران واشنگٹن کے ساتھ معاہدے پر رضامند نہیں ہوتا تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ممکنہ کارروائی کے لیے ’’ایک اور چھوٹا ایپک فیوری‘‘ کی اصطلاح استعمال کی، جس سے ایران کے خلاف نئے حملوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
24 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ امریکہ ایک اور فوجی آپریشن کر سکتا ہے یا ایران معاہدے کے لیے تیار ہو جائے۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ معاہدے کے لیے ایران کو کن مخصوص شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا یا کسی نئی کارروائی کا فیصلہ کب کیا جا سکتا ہے۔
’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ فوجی مہم کا نام تھا، جو فروری 2026 میں شروع ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں سابقہ فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ امریکی صدر کا مؤقف ہے؛ اس کے تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق الگ معاملہ ہے۔
تہران کا جواب: امریکہ آگ سے نہ کھیلے
ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوجی تصادم کو دوبارہ ہوا نہ دے۔ ایرانی حکام کے مطابق، اگر امریکہ یا اسرائیل نے نئے حملے کیے تو تہران کا ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ایک ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ ممکنہ جنگ کی صورت میں ردعمل صرف فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہ سکتا۔ ایران نے خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو بھی ممکنہ ہدف بنانے اور ان کی مرمت میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق انتباہ دیا ہے۔ اس طرح کی کارروائی سے خطے میں انٹرنیٹ اور بین الاقوامی مواصلاتی نظام متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم، یہ بیانات ممکنہ اقدامات سے متعلق دھمکیاں ہیں؛ ان سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ ایسے حملے شروع ہو چکے ہیں۔
کیا امریکہ اسی ہفتے ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟
تازہ رپورٹوں میں امریکی سفیر ٹام بارک کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران پر حملہ اسی ہفتے بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے ان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فوری کارروائی کے بارے میں کوئی واضح تصدیق نہیں کی۔ اس لیے حملے کے کسی مخصوص دن یا وقت کو طے شدہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
امریکی صدر ایک طرف ایران کے خلاف مزید کارروائی کا امکان ظاہر کر رہے ہیں، تو دوسری طرف یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ جنگ کو جلد ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے واشنگٹن کی حکمتِ عملی میں فوجی دباؤ اور معاہدے کے امکان، دونوں پہلو سامنے آتے ہیں۔
ایران کے لیے بھی صورتِ حال پیچیدہ ہے۔ ایک جانب وہ امریکی شرائط کے سامنے جھکنے سے گریز کر رہا ہے، دوسری جانب طویل جنگ کے معاشی، فوجی اور سفارتی اثرات سے نمٹنا بھی اس کے لیے اہم چیلنج ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو خلیج فارس کو بحیرۂ عمان سے ملاتی ہے۔ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہاں جہاز رانی میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
اگر کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں پر حملے بڑھتے ہیں یا آبنائے ہرمز سے آمدورفت مزید متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
اسی لیے موجودہ تنازع صرف واشنگٹن اور تہران کے تعلقات تک محدود نہیں؛ اس کے اثرات خلیجی ممالک، عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت تک پھیل سکتے ہیں۔
سفارت کاری کا راستہ اب بھی موجود ہے
فوجی دھمکیوں کے باوجود مذاکرات کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ امریکہ ایران سے ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو اس کے مطابق تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے، جبکہ ایران اپنی سلامتی، پابندیوں اور امریکی فوجی دباؤ سے متعلق مطالبات رکھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی نوعیت اور شرائط پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے سفارتی عمل مشکل بنا ہوا ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ نئی دھمکیوں کے بعد مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہوگی یا صورتِ حال مزید بگڑے گی۔ اگر دونوں فریق اپنے مؤقف میں سختی برقرار رکھتے ہیں تو فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، لیکن کسی نئے حملے کو یقینی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔










