نئی دہلی: سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سنجے کشن کول نے سابق چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کے دور میں ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔ جسٹس کول کے مطابق، چندرچوڑ بعض مواقع پر سپریم کورٹ کے کالجیم میں ناموں پر باضابطہ غور و خوض سے پہلے ہی مرکزی حکومت کی منظوری یا رائے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جسٹس کول نے اس طریقے کو حکومت سے پیشگی منظوری لینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
یہ دعوے جسٹس کول کی آنے والی یادداشتوں پر مبنی کتاب Without Fear of Favour اور صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے انٹرویو کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ کتاب میں جسٹس کول نے عدلیہ اور حکومت کے تعلقات، اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری اور کالجیم نظام کی خامیوں پر اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ کالجیم کی میٹنگ سے پہلے حکومت سے رابطے پر اعتراض
جسٹس کول کے مطابق، ججوں کی تقرری کے معاملے میں حکومت سے مشاورت اور کالجیم کے باضابطہ غور و خوض سے پہلے اس کی منظوری لینے میں فرق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے رابطہ کرنا بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن اگر ناموں پر کالجیم کی رسمی بحث سے پہلے ہی حکومتی رضامندی حاصل کی جائے تو اس سے تقرری کے پورے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔
جسٹس کول نے بتایا کہ جون 2022 میں کالجیم کا رکن بننے کے بعد انہوں نے تجویز دی تھی کہ حکومت سے بات چیت کے دوران چیف جسٹس اور وہ مل کر اپنا مؤقف پیش کریں۔ ان کے مطابق، وہ چاہتے تھے کہ عدلیہ تقرریوں کے معاملے میں اپنے اختیارات اور ادارہ جاتی آزادی کا مضبوطی سے دفاع کرے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت کے چیف جسٹس چندرچوڑ حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنے میں ضرورت سے زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتے تھے۔ یہ جسٹس کول کی ذاتی رائے اور ان کے تجربات پر مبنی بیان ہے۔
چھٹے نام پر اختلاف کی کہانی
جسٹس کول نے کالجیم کی ایک میٹنگ کا ذکر بھی کیا، جس میں سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے چھ ناموں پر غور ہونا تھا۔ ان کے مطابق، پانچ ناموں پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا، لیکن میٹنگ کے دن چندرچوڑ نے چھٹے نام کی تجویز پیش کی۔
جسٹس کول کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہوا کہ یہ نام حکومت کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، چندرچوڑ نے اس دوران ان سے الگ بات کرتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا کہ حکومت سے فون پر رابطہ کرکے اس نام کے بارے میں اس کی رائے معلوم کی جائے۔
جسٹس کول نے اس خیال کی مخالفت کی اور کہا کہ کالجیم کی میٹنگ کے دوران اس طرح حکومت سے رابطہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے بیان کے مطابق، آخرکار پہلے سے طے شدہ پانچ ناموں پر پیش رفت ہوئی، جبکہ چھٹے نام کو اس وقت منظوری نہیں مل سکی۔
چندرچوڑ کا جواب: کتاب پڑھنے کے بعد ردعمل دوں گا
جسٹس کول کے دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے دی انڈین ایکسپریس سے کہا کہ انہوں نے ابھی جسٹس کول کی کتاب نہیں پڑھی، اس لیے وہ اس کے مندرجات اور سیاق و سباق کو سمجھے بغیر تفصیلی تبصرہ نہیں کر سکتے۔
چندرچوڑ نے یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس کے طور پر ان کی کالجیم میٹنگز خوشگوار ماحول میں ہوتی تھیں اور جسٹس کول کے ساتھ ان کے تعلقات احترام پر مبنی رہے۔ ان کے مطابق، کالجیم میں اچھی گفتگو اور دلیل پر مبنی تبادلۂ خیال ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی ایسے موقع کی یاد نہیں جب جسٹس کول کالجیم کی میٹنگ سے اٹھ کر چلے گئے ہوں۔
چندرچوڑ نے مزید کہا کہ وہ ہر کالجیم میٹنگ کے بعد قرارداد منظور کرنے کی روایت پر عمل کرتے تھے اور انہیں ایسی کسی قرارداد کا علم نہیں جس میں کسی رکن کا اختلاف درج کیا گیا ہو۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ججوں کی تقرری کے عمل میں حکومت کا کردار ہوتا ہے اور تقرری کے وارنٹ پر صدرِ جمہوریہ کے دستخط ہوتے ہیں۔
کالجیم نظام پر بھی اٹھائے سوال
جسٹس کول نے اپنی کتاب میں صرف چندرچوڑ کے طرزِ عمل پر ہی تنقید نہیں کی، بلکہ کالجیم نظام کو بھی خامیوں سے بھرپور قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، اس نظام میں شفافیت کی کمی، فیصلوں کے اختیار کا چند افراد تک محدود ہونا اور غیر رسمی ذرائع سے حکومتی دباؤ کا امکان جیسے مسائل موجود ہیں۔
انہوں نے 2015 میں قومی عدالتی تقرری کمیشن (NJAC) کو سپریم کورٹ کی جانب سے منسوخ کیے جانے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے خیال میں، اس نظام کو فوری طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے کام کرنے کا موقع دیا جا سکتا تھا۔ NJAC کے تحت عدالتی تقرریوں میں حکومت کا کردار بڑھ جاتا، جبکہ کالجیم نظام میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی سفارشات مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔
یہ بحث ہندوستان میں عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی تقرری کے عمل میں حکومت کے کردار سے متعلق وسیع تر آئینی سوالات کا حصہ ہے۔











