اردو
हिन्दी
اکتوبر 25, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ججوں کی تقرری سے پہلے حکومت کی منظوری لیتے تھے سابق چیف جسٹس چندرچوڑ؟ جسٹس کول کا بڑا انکشاف

1 گھنٹہ پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
ججوں کی تقرری سے پہلے حکومت کی منظوری لیتے تھے سابق چیف جسٹس چندرچوڑ؟ جسٹس کول کا بڑا انکشاف
7
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سنجے کشن کول نے سابق چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کے دور میں ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔ جسٹس کول کے مطابق، چندرچوڑ بعض مواقع پر سپریم کورٹ کے کالجیم میں ناموں پر باضابطہ غور و خوض سے پہلے ہی مرکزی حکومت کی منظوری یا رائے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جسٹس کول نے اس طریقے کو حکومت سے پیشگی منظوری لینے کے مترادف قرار دیا ہے۔

یہ دعوے جسٹس کول کی آنے والی یادداشتوں پر مبنی کتاب Without Fear of Favour اور صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے انٹرویو کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ کتاب میں جسٹس کول نے عدلیہ اور حکومت کے تعلقات، اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری اور کالجیم نظام کی خامیوں پر اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ کالجیم کی میٹنگ سے پہلے حکومت سے رابطے پر اعتراض

جسٹس کول کے مطابق، ججوں کی تقرری کے معاملے میں حکومت سے مشاورت اور کالجیم کے باضابطہ غور و خوض سے پہلے اس کی منظوری لینے میں فرق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے رابطہ کرنا بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن اگر ناموں پر کالجیم کی رسمی بحث سے پہلے ہی حکومتی رضامندی حاصل کی جائے تو اس سے تقرری کے پورے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔

جسٹس کول نے بتایا کہ جون 2022 میں کالجیم کا رکن بننے کے بعد انہوں نے تجویز دی تھی کہ حکومت سے بات چیت کے دوران چیف جسٹس اور وہ مل کر اپنا مؤقف پیش کریں۔ ان کے مطابق، وہ چاہتے تھے کہ عدلیہ تقرریوں کے معاملے میں اپنے اختیارات اور ادارہ جاتی آزادی کا مضبوطی سے دفاع کرے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت کے چیف جسٹس چندرچوڑ حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنے میں ضرورت سے زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتے تھے۔ یہ جسٹس کول کی ذاتی رائے اور ان کے تجربات پر مبنی بیان ہے۔

چھٹے نام پر اختلاف کی کہانی

جسٹس کول نے کالجیم کی ایک میٹنگ کا ذکر بھی کیا، جس میں سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے چھ ناموں پر غور ہونا تھا۔ ان کے مطابق، پانچ ناموں پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا، لیکن میٹنگ کے دن چندرچوڑ نے چھٹے نام کی تجویز پیش کی۔

جسٹس کول کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہوا کہ یہ نام حکومت کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، چندرچوڑ نے اس دوران ان سے الگ بات کرتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا کہ حکومت سے فون پر رابطہ کرکے اس نام کے بارے میں اس کی رائے معلوم کی جائے۔

جسٹس کول نے اس خیال کی مخالفت کی اور کہا کہ کالجیم کی میٹنگ کے دوران اس طرح حکومت سے رابطہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے بیان کے مطابق، آخرکار پہلے سے طے شدہ پانچ ناموں پر پیش رفت ہوئی، جبکہ چھٹے نام کو اس وقت منظوری نہیں مل سکی۔

چندرچوڑ کا جواب: کتاب پڑھنے کے بعد ردعمل دوں گا

جسٹس کول کے دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے دی انڈین ایکسپریس سے کہا کہ انہوں نے ابھی جسٹس کول کی کتاب نہیں پڑھی، اس لیے وہ اس کے مندرجات اور سیاق و سباق کو سمجھے بغیر تفصیلی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

چندرچوڑ نے یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس کے طور پر ان کی کالجیم میٹنگز خوشگوار ماحول میں ہوتی تھیں اور جسٹس کول کے ساتھ ان کے تعلقات احترام پر مبنی رہے۔ ان کے مطابق، کالجیم میں اچھی گفتگو اور دلیل پر مبنی تبادلۂ خیال ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی ایسے موقع کی یاد نہیں جب جسٹس کول کالجیم کی میٹنگ سے اٹھ کر چلے گئے ہوں۔

چندرچوڑ نے مزید کہا کہ وہ ہر کالجیم میٹنگ کے بعد قرارداد منظور کرنے کی روایت پر عمل کرتے تھے اور انہیں ایسی کسی قرارداد کا علم نہیں جس میں کسی رکن کا اختلاف درج کیا گیا ہو۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ججوں کی تقرری کے عمل میں حکومت کا کردار ہوتا ہے اور تقرری کے وارنٹ پر صدرِ جمہوریہ کے دستخط ہوتے ہیں۔

کالجیم نظام پر بھی اٹھائے سوال

جسٹس کول نے اپنی کتاب میں صرف چندرچوڑ کے طرزِ عمل پر ہی تنقید نہیں کی، بلکہ کالجیم نظام کو بھی خامیوں سے بھرپور قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، اس نظام میں شفافیت کی کمی، فیصلوں کے اختیار کا چند افراد تک محدود ہونا اور غیر رسمی ذرائع سے حکومتی دباؤ کا امکان جیسے مسائل موجود ہیں۔

انہوں نے 2015 میں قومی عدالتی تقرری کمیشن (NJAC) کو سپریم کورٹ کی جانب سے منسوخ کیے جانے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے خیال میں، اس نظام کو فوری طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے کام کرنے کا موقع دیا جا سکتا تھا۔ NJAC کے تحت عدالتی تقرریوں میں حکومت کا کردار بڑھ جاتا، جبکہ کالجیم نظام میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی سفارشات مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔

یہ بحث ہندوستان میں عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی تقرری کے عمل میں حکومت کے کردار سے متعلق وسیع تر آئینی سوالات کا حصہ ہے۔

ٹیگ: Collegium SystemDY ChandrachudIndian JudiciaryJudicial AppointmentsJustice Sanjay Kishan Kaulsupreme court

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

اننت سنگھ کا جے ڈی یو پر حملہ: ’اب پارٹی ختم ہو چکی ہے‘، اپنی نئی پارٹی بنانے کا بھی اعلان
خبریں

اننت سنگھ کا جے ڈی یو پر حملہ: ’اب پارٹی ختم ہو چکی ہے‘، اپنی نئی پارٹی بنانے کا بھی اعلان

25 اکتوبر
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر
خبریں

گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں بڑی ریلی، کانگریس کا 10 لاکھ افراد کا دعویٰ

25 اکتوبر
اروناچل پردیش میں چین کے ساتھ فوجی ٹکراؤ، آئی ٹی بی پی سربراہ کے بیان پر مرکز کا جواب
خبریں

اروناچل پردیش میں چین کے ساتھ فوجی ٹکراؤ، آئی ٹی بی پی سربراہ کے بیان پر مرکز کا جواب

24 اکتوبر
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
’اسلام قبول کرلوں گا‘،  رو پڑے سماج وادی پارٹی کے امیدوار آکاش اگروال؛ کیا ہے پورا معاملہ؟

’اسلام قبول کرلوں گا‘، رو پڑے سماج وادی پارٹی کے امیدوار آکاش اگروال؛ کیا ہے پورا معاملہ؟

اکتوبر 23, 2026
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
اننت سنگھ کا جے ڈی یو پر حملہ: ’اب پارٹی ختم ہو چکی ہے‘، اپنی نئی پارٹی بنانے کا بھی اعلان

اننت سنگھ کا جے ڈی یو پر حملہ: ’اب پارٹی ختم ہو چکی ہے‘، اپنی نئی پارٹی بنانے کا بھی اعلان

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں بڑی ریلی، کانگریس کا 10 لاکھ افراد کا دعویٰ

ججوں کی تقرری سے پہلے حکومت کی منظوری لیتے تھے سابق چیف جسٹس چندرچوڑ؟ جسٹس کول کا بڑا انکشاف

ججوں کی تقرری سے پہلے حکومت کی منظوری لیتے تھے سابق چیف جسٹس چندرچوڑ؟ جسٹس کول کا بڑا انکشاف

اروناچل پردیش میں چین کے ساتھ فوجی ٹکراؤ، آئی ٹی بی پی سربراہ کے بیان پر مرکز کا جواب

اروناچل پردیش میں چین کے ساتھ فوجی ٹکراؤ، آئی ٹی بی پی سربراہ کے بیان پر مرکز کا جواب

اننت سنگھ کا جے ڈی یو پر حملہ: ’اب پارٹی ختم ہو چکی ہے‘، اپنی نئی پارٹی بنانے کا بھی اعلان

اننت سنگھ کا جے ڈی یو پر حملہ: ’اب پارٹی ختم ہو چکی ہے‘، اپنی نئی پارٹی بنانے کا بھی اعلان

اکتوبر 25, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں بڑی ریلی، کانگریس کا 10 لاکھ افراد کا دعویٰ

اکتوبر 25, 2026
ججوں کی تقرری سے پہلے حکومت کی منظوری لیتے تھے سابق چیف جسٹس چندرچوڑ؟ جسٹس کول کا بڑا انکشاف

ججوں کی تقرری سے پہلے حکومت کی منظوری لیتے تھے سابق چیف جسٹس چندرچوڑ؟ جسٹس کول کا بڑا انکشاف

اکتوبر 25, 2026
اروناچل پردیش میں چین کے ساتھ فوجی ٹکراؤ، آئی ٹی بی پی سربراہ کے بیان پر مرکز کا جواب

اروناچل پردیش میں چین کے ساتھ فوجی ٹکراؤ، آئی ٹی بی پی سربراہ کے بیان پر مرکز کا جواب

اکتوبر 24, 2026

حالیہ خبریں

اننت سنگھ کا جے ڈی یو پر حملہ: ’اب پارٹی ختم ہو چکی ہے‘، اپنی نئی پارٹی بنانے کا بھی اعلان

اننت سنگھ کا جے ڈی یو پر حملہ: ’اب پارٹی ختم ہو چکی ہے‘، اپنی نئی پارٹی بنانے کا بھی اعلان

اکتوبر 25, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں بڑی ریلی، کانگریس کا 10 لاکھ افراد کا دعویٰ

اکتوبر 25, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN