نئی دہلی: کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف یکم نومبر کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں ہونے والی انڈیا اتحاد کی ریلی میں کم از کم 10 لاکھ افراد شرکت کریں گے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس احتجاج کو اپنے ملک گیر ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ مہم کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔
کانگریس رہنماؤں کے مطابق، ریلی میں انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرِ ثانی (SIR) اور اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے مسائل اٹھائے جائیں گے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں ناموں کے حذف ہونے اور دیگر مبینہ بے ضابطگیوں پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں، جن کا جواب الیکشن کمیشن کو دینا چاہیے۔
یہ تعداد کانگریس کا دعویٰ اور ہدف ہے؛ ریلی میں شریک ہونے والوں کی اصل تعداد کا اندازہ اجتماع کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
’دہلی چلو مارچ‘ رام لیلا میدان پر ختم ہوگا
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کے مطابق، یکم نومبر کو ’دہلی چلو مارچ‘ کے بعد رام لیلا میدان میں بڑا عوامی اجتماع ہوگا۔ پارٹی نے انڈیا اتحاد میں شامل جماعتوں سے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو دہلی لانے کی اپیل کی ہے۔
کانگریس نے ہریانہ سمیت پڑوسی ریاستوں میں بھی ریلی کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ ہریانہ کانگریس کے انچارج سنجے دت اور ریاستی صدر راؤ نریندر سنگھ نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کو انتخابی فہرستوں میں مبینہ خامیوں کی نشاندہی کرنے، ووٹروں میں بیداری پھیلانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلی میں شریک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ہماچل پردیش میں کانگریس اور سی پی آئی (ایم) کے رہنماؤں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہاں سے تقریباً 10 ہزار سے 15 ہزار کارکن دہلی پہنچ سکتے ہیں۔ یہ ریاستی سطح پر شرکت کا تخمینہ ہے، جبکہ 10 لاکھ افراد کا مجموعی دعویٰ کانگریس نے کیا ہے۔
گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کیوں؟
کانگریس اور انڈیا اتحاد کی دیگر جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار اور الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرِ ثانی کے دوران اہل ووٹروں کے نام حذف ہونے کا خدشہ ہے اور انتخابی عمل میں زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے۔
کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک گیانیش کمار عہدے پر برقرار ہیں، انتخابی عمل کی غیر جانب داری سے متعلق خدشات کا مناسب حل نہیں نکل سکے گا۔ اسی بنیاد پر پارٹی ان کی برطرفی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
یہ اپوزیشن کے الزامات اور سیاسی مطالبات ہیں۔ ان دعوؤں کو ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا؛ ان کی جانچ اور متعلقہ حکام کا مؤقف بھی اہم ہے۔
30 اکتوبر کو ’عوامی مواخذے‘ کی کارروائی کا اعلان
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ انڈیا اتحاد 30 اکتوبر کو گیانیش کمار کے خلاف ’پبلک امپیچمنٹ‘ یعنی عوامی مواخذے کے نام سے ایک احتجاجی پروگرام منعقد کرے گا۔ اس کے بعد یکم نومبر کو ’دہلی چلو مارچ‘ اور ریلی ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ سیاسی احتجاج اور عوامی مہم ہے، آئین کے تحت پارلیمانی مواخذے کی رسمی کارروائی نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا آئینی طریقۂ کار الگ ہے اور اس کے لیے مقررہ قانونی و پارلیمانی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔











