نئی دہلی :
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) این وی رمن نے گزشتہ بروزبدھ کو ایک پروگرام کے دوران کہا کہ حکمراں کو بدل دینے سے ہی ظلم سے نجات نہیں مل سکتی ۔ جولیس اسٹون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انتخاب، تنقید اور اختلاف رائے یہ تمام جمہوریت کا حصہ ہے ، لیکن اس سے جبر واستبداد سے نجات کی گارنٹی نہیں ملتی۔
چیت جسٹس آف انڈیا نے کہاکہ آزادی کے بعد 17 عام انتخابات ہوچکے ہیں۔ عوام نے اپنی ذمہ داری ہمیشہ اچھی طرح نبھائی ہے اور اب ان کی باری ہے جنہیں عوام نے آئینی ذمہ داری دی ہے ۔آپ کے پاس کچھ دنوں میں سرکار بدلنے کا اختیار ہوسکتاہے ، لیکن اس سے آپ کو ظلم سے نجات کی گارنٹی نہیں مل سکتی۔ ’جب تک ہر فرد کی عزت نفس کا تحفظ نہیں ہوتا، جمہوریت کے معنی پورے نہیں ہوتے ۔‘
عدلیہ کی آزادی پرسی جے آئی نے کہاکہ ’ عدلیہ کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی بھی مقننہ یا ایگزیکٹیو کے ذریعہ کنٹرول نہیں کیا جانا چاہئے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو قانون وانتظام ثانوی ہوجائیں گے۔ اسی طرح عوام کے خیالات کا حوالہ دے کر یا جذباتی رویہ پیش کرکے ججوں پر بھی کسی طرح کا دباؤ نہیں بنانا چاہئے۔ ججوں کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ سوشل میڈیا پر جس بات کو بڑھا – چڑھا کر بتایا جا رہا ہے ،ضروری نہیں ہے کہ وہ سچ ہو اور یہ بھی نہیں ضروری ہے کہ وہ پوری طرح جھوٹ ہو۔
انہوں نے کہا ، ’ایگزیکٹیو کےدباؤ میں بہت ساری چیزیں رونما ہوتی ہیں لیکن اس موضوع پر بھی بحث شروع کرناضروری ہے کہ کیسے سوشل میڈیا کے رجحانات اداروں کو متاثر کرسکتے ہیں۔‘
جسٹس رمن نے کہا کہ دنیا نے کورونا وبا کی شکل میں بے مثال بحران دیکھا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں خود کو کچھ ٹھہرکر سوچنا ہوگا کہ بحران کے اس وقت میں ہم نے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا کیا ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ وبا اور بھی بحران سامنے لاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات کا تجزیہ کرنا چاہئے کہ کیا صحیح اور کیا غلط کیا ہے ۔









