نئی دہلی :
غازی پور بارڈر پر بی جے پی کارکنان اور زرعی قوانین کی مخالفت میں دھرنے دے رہے کسانوں کے درمیان جھڑپ کے بعد بھارتیہ کسان یونین ( بی کے یو ) کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے بدھ کو بی جے پی پر نسلی فسادات بھڑکانے کی سازش رچنے کا الزام لگایا۔ راکیش ٹکیت نے کہاکہ بی جے پی ذات پر مبنی فساد کرانے کی سازش کررہی ہے ۔
’ہندوستان‘ کی خبر کے مطابق بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق راکیش ٹکیت نے کہاکہ بی جے پی کارکنان نے کسان لیڈروں کو کالے جھنڈے دکھائے اور قابل اعتراض زبان کااستعمال کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ والمیکی سماج کے ممبران نے زرعی قوانین کی مخالفت میں جاری تحریک کو اپنی حمایت دی ہے ۔
ایک عینی شاہد کے مطابق جھڑپ اس وقت ہوئی جب بی جے پی کارکنان ایک فلائی وے پر جلوس نکال رہے تھے، جہاں دھرنے دے رہے خاص طور سے بی کے یو کی حامی نومبر 2020 سے ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ کسانوں نے الزمام لگایا کہ یہ واقعہ سات مہینے پرانے احتجاج ومظاہرے کو دبانے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کی سازش ہے ۔
وہیں حکمراں پارٹی کے کارکنان نے دعویٰ کیا کہ جب وہ بی جے پی کے نومنتخب جنرل سکریٹری امت والمیکی کے احترام میں استقبالیہ جلوس نکال رہے تھے تو قابل اعتراض زبان اور ذات پر مبنی الفاظ کا استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے جھڑپ ہوئی۔ غور طلب ہے کہ بدھ کو غازی پور سرحد پر دونوں فریقوں میں جم کر پتھراؤ ہوا اور پولیس نے معاملہ بھی درج کرلیا ہے ۔









