نئی دہلی :
چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے کہا کہ بھارت کی سرکار میڈیکل سیکٹر پر فوری توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی اور کی ناکامی کی سزا بالآخر طبی عملے کوبھگتنی پڑتی ہے ۔ ورلڈ ڈاکٹرز ڈے کے موقع پر منعقد ایک پروگرام میں انہوںنے کہاکہ طبی اداروں اور سرکار کے متعلقہ ایجنسیوں کو اپنی ترجیجات کو آگے لانا چاہئے اور اس موضوع پر کھل کر بات کرنی چاہئے۔ تبھی اپنے ڈاکٹروں کو یکم جولائی (ڈاکٹرز ڈے) کو خوش کر سکتے ہیں ۔
جسٹس رمن نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ڈاکٹروں پر ڈیوٹی کے دوران حملے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر کسی اور کی ناکامی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی کا ایشو اٹھاتے ہوئے کہاکہ سرکار اس سیکٹر کو ترجیج نہیں دے رہی ہے ، یہاں تک کہ فیملی ڈاکٹر کا تصور بھی آہستہ آہستہ ختم ہو رہاہے ۔ کارپوریٹ اور سرمایہ کار جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کے لیے ڈاکٹروں کو کیوں قصور وار قرار دیا جاتا ہے ۔
ایک دن پہلے ہی چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا تھا کہ انتخابات کسی کو بھی ظلم سے نجات نہیں دلا سکتے۔ انہوں نے عدلیہ میں ’سرکاری‘مداخلت کو لے کر بھی تشویش کااظہار کیا تھا۔ انہوں نےکہا تھاکہ انتخاب تو 1947 کے بعد سے ہو رہے ہیں ، لیکن سرکار بدلنا اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ آپ کو ظلم سے نجات مل جائے گی۔ جمہوریت کے اصلی معنی سمجھاتے ہوئے ہوئے انہوں نے کہا تھاکہ سب کا عزت نفس بنا رہنا جمہوریت میں سب سے ضروری ہے ۔
جسٹس رمن نے سوشل میڈیا کا ججوں پر اثرات کو لے کر بھی بات کی اور کہا کہ باہری اثرات سے عدالتی نظام کو بچنا چاہئے۔ جو باتیں سوشل میڈیا پر زور شور سے اٹھائی جاتی ہے ، ضرور ی نہیں ہے کہ وہ سچ یا درست ہو ، اس لئے عدالت کو باہری دباؤں سے آزاد ہونا چاہئے۔
کورونا کو لے کر بھی انہوں نے تشوش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بحران کئی دہائیوں تک اپنا اثر چھوڑ سکتا ہے ۔ ایسے میں ایک منٹ رک کر یہی سوچنا چاہئے کہ ہم نے کسی کے لیے کیا کیا۔ ہمیں آگے بھی لوگوں کی مدد کی کوشش کرنا چاہئے۔









