نئی دہلی:
گوہاٹی میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے جمعرات کو’ رائے جور دل‘ کے سربراہ اکھل گگوئی کو بری کرتے ہوئے کہاکہ تشدد کے لیے بھڑکائے بغیرعارضی ناکہ بندی کرنا یا اس میں حصہ لینا انسداد دہشت گرد ی قانون یو اے پی اے کے تحت دہشت گرد ی کا کوئی اقدام نہیں ہے ۔
شیوساگر سے ایم ایل اے اکھل گگوئی دسمبر 2019 میں ریاست میں شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف پرتشدد تحریک میں مبینہ رول کے لیے غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) ایکٹ کے تحت الزامات کا سامنا کررہے تھے ۔
اسپیشل جج پرانجل داس نے یہ بھی کہا کہ معمولی بند، شٹ ڈاؤن جیسے احتجاجی مظاہرے کے خلاف اگر تشدد بھڑکانے کا ثبوت نہیں ہے تو اسے ’بھارت کی معاشی سلامتی کے لیے خطرہ‘ نہیں مانا جائے گا، جس سے یو اے پی اے کے تحت ایک دہشت گرد ی ایکٹ کی شکل میں بھی نامزد کیا گیا ہے ۔
جج نے کہا کہ اظہار رائے کا ایک انتہائی سنجیدہ مطلب ہے ، لیکن گگوئی کے خلاف پراسیکیوشن کے مواد اس کے خلاف یہ جرم قائم نہیں کرتا ہے ۔
جج نے کہا کہ پولیس کے اس الزام کی تائید کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے کہ متنازع شہریت قانون کی مخالفت کی آڑ میں گگوئی نے مبینہ طور پر قانون کے ذریعہ قائم حکومت کے تئیں نفرت اور عدم اطمینان پیدا کرنے اور باہمی دشمنی پیدا کرنے کی سازش کی تھی۔









